اسرائیلی فورسز نے غزہ پر گولہ باری جاری رکھتے ہوئے وسطی نصیرات پناہ گزین کیمپ میں مقامی ٹی وی چینل کے 5 صحافیوں سمیت شمالی غزہ شہر میں رہائشی عمارت پر بمباری میں مجموعی طور پر 10 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔
غزہ شہر پر حملے میں کم از کم 30 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے، ڈاکٹروں کے مطابق، جنوبی غزہ میں نقل مکانی کرنے والے کیمپ میں 3 فلسطینی بچے ہائپوتھرمیا کی وجہ سے اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں کیونکہ درجہ حرارت میں کمی اور خوراک، پانی اور سردیوں کے ضروری سامان پر اسرائیل کی ناکہ بندی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل غزہ میں کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہوسکتا، ایلون مسک
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے نصیرات کیمپ میں واقع اسپتال میں کوریج میں مصروف القدس ٹی وی چینل کی وین پر فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 5 صحافیوں سمیت کم سے کم 10 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی حملے کے بعد براڈ کاسٹنگ وین میں آگ بھڑک اٹھی اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی، اس واقع کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہیں، جس میں براڈ کاسٹنگ وین پر واضح طور پر انگریزی زبان میں ’پریس‘ لکھا ہوا تھا۔
مزید پڑھیں:غزہ: فلسطینی جنگجو کا بھیس بدل کر اسرائیلی فوج پر خودکش حملہ
اسرائیلی فوج نے صحافیوں پر ہونیوالے حملے کی ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فضائیہ نے دہشتگردوں کے سیل کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب صحافیوں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق گزشتہ سال 7 اکتوبر سے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ، مغربی کنارے، اسرائیل اور لبنان میں تقریباً 150 صحافی اور میڈیا ورکرز قتل ہوچکے ہیں، جن میں 133 غزہ کے مقامی فلسطینی شہری شامل تھے۔