پاکستانی انجینیئرز کا تیار کردہ پہلا دیسی ای او۔1 سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا گیا

جمعہ 17 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے خلائی اور اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے پہلے مکمل طور پر دیسی الیکٹرو آپٹیکل (ای او-1) سیٹلائٹ کو جمعہ کے روز چین سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا گیا ہے، صدرمملکت، وزیراعظم پاکستان اور پاک فوج نے سٹیلائٹ کی کامیابی کے ساتھ لانچنگ پر قوم اور سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔

سپارکو کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جمعہ کو سیٹلائٹ چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچنگ سینٹر سے خلا میں بھیج دیا گیا ہے، اس تقریب کو سپارکو کے کراچی کمپلیکس سے براہ راست نشر کیا گیا، جس سے پاکستانی سیٹلائٹ کے خلا میں سفر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان ایک اور خلائی کامیابی کی جانب گامزن، ای او -1 سیٹلائٹ 17 جنوری کو لانچ کرنے کا اعلان

ای او ون سیٹلائٹ ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی، قدرتی آفات پر نظر رکھنے اور فصلوں کی بہتری، مٹی کی نمی اور موسمی تبدیلیوں سے متعلق اہم اعداد و شمار فراہم کرنے میں کلیدی کردارادا کرے گا، اس سے زرعی پیداوار کو بڑھانے میں زبردست مدد ملے گی۔ پاکستان اسپیس اینڈ اپرایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن کمپلیکس کی باضابطہ لانچنگ کی تقریب جمعہ کو کراچی میں منعقد کی گئی۔

سپارکو کے ماہر زین بخاری کے مطابق ای او ون سیٹلائٹ پاکستان کے لیے تاریخی کامیابی ہے۔ ’ای او -1 ایک ہائی ریزولوشن کیمرے سے لیس ہے جو زمین کی تفصیلی تصاویرحاصل کرے گا ، جس میں متعدد ایپلی کیشنزپیش کی جائیں گی۔

یہ سپارکو کے انجینئرز کی جانب سے مکمل طور پر ڈیزائن اورتیار کیا گیا پہلا سیٹلائٹ ہے جو خلائی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کرنے کی قوم کی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔

زین بخاری نے مزید کہا کہ سیٹلائٹ کی آپریشنل تیاری کو یقینی بنانے کے لیے سخت ٹیسٹنگ کی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ لانچنگ پوری قوم کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔

توقع ہے کہ ای او -1 سیٹلائٹ متعدد شعبوں میں اہم اعداد و شماراور اسٹیلائٹ امیجز زمین پر بھیجنے میں کامیاب ہوگا۔ یہ آفات سماوی کو پیشگی چانچنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا، خاص طور پر سیلاب اور زلزلوں کے دوران درست وقت کے تعین میں مدد گار ثابت ہوگا، جس سے نقصان کا زیادہ مؤثر انداز میں اندازہ لگانے میں بھی مدد ملے گی۔

توقع کی جارہی ہے کہ یہ سیٹلائٹ پاکستان کی قدرتی وسائل کی تلاش، قدرتی آفات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کی کوششوں میں مدد دینے کی صلاحیت کا حامل ہو گا۔ اس سے زرعی پیداوار کی نگرانی، پیداوار کی پیش گوئی، آبپاشی کی ضروریات کا اندازہ لگانے اور غذائی تحفظ کے اقدامات میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ ای او-1 سیٹلائٹ بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر نظر رکھ کر اور شہری پھیلاؤ کا انتظام کرکے شہری ترقی میں مدد کرے گا۔ یہ ماحولیاتی نگرانی اور آفات کے انتظام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا ، سیلاب ، لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلوں جیسے واقعات سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کرے گا۔

مزید پڑھیں:ایک اور بڑی کامیابی: پاکستان نے پاک سیٹ ایم ایم۔1 مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا

یہ سیٹلائٹ معدنیات، تیل اور گیس کے شعبوں، گلیشیئرز کے پگلنے اور آبی وسائل کی نگرانی کرکے ان قدرتی وسائل کے اخراج اور تحفظ میں مزید کردار ادا کرے گا۔

ای او ون کا اجرا پاکستان کی خلائی تحقیق کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں خلائی تحقیق میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ نومبر 2024 میں سپارکو نے اعلان کیا تھا کہ اس کا روور 2028 میں چاند کی سطح کی کھوج کے لیے چین کے چانگ ای 8 مشن میں شامل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 66 پیسے، ڈیزل 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا

گلوبل سپر لیگ: لاہور قلندرز نے ڈیزرٹ وائپرز کو 38 رنز سے شکست دے دی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب