فارم 45 اور 47 میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہوگا، انکوائری کرنا ہوگی، سپریم کورٹ

پیر 20 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کے رکن جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ  فارم 45 یا 47 دونوں میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہوگا، فارم کو جانچنے کے لیے پوری انکوائری کرنا ہوگی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے یہ ریمارکس بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دائر کردہ انتخابی دھاندلی کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر تیاری کے لیے وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی دی۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابی دھاندلی کے خلاف درخواستیں، پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کو ریلیف کی امید کیوں نہیں؟

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔عمران کے وکیل حامد خان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 184(3) میں دائرہ اختیار دیا گیا ہے یا نہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان سے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن جانبدار ہے تو متعلقہ فارم پر جانا چاہیے تھا، ہر امیدوار کے نوٹیفکیشن کے لیے عدالت کو آپ کو بتانا ہو گا، فارم 45 یا 47 دونوں میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہوگا، فارم کو جانچنے کے لیے پوری انکوائری کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: حلقہ این اے 263 میں انتخابی عذرداری کی درخواست مسترد، لیگی امیدوار کی کامیابی برقرار

جسٹس محمد علی مظہر بولے کہ حامد صاحب آپ آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں۔ وکیل حامد خان بولے کہ میں صرف اعتراضات دور کرنے آیا تھا، آپ میرٹ پر بات کررہے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہر حلقے کی علیحدگی انکوائری ہوگی، ہر امیدوار اپنے حلقہ کے الزامات کا بتائے گا، پہلے بھی انتخابات دھاندلی کا ایشو اٹھا تھا، انکوائری کے لیے آرڈیننس لانا پڑا تھا، کارروائی کا اختیار ہمارے پاس نہیں تھا اس لیے آرڈیننس بنانا پڑا، 184 کے تحت دائرہ اختیار عدالت کا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مبینہ انتخابی دھاندلی: پاکستان تحریک انصاف کا 8 فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ اس عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک ازخود نوٹس نہیں لے سکی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ سینیئر وکیل ہیں الفاظ کا چناؤ دیکھ کر کریں۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اعتراضات آپ کی استدعا کو دیکھ کر ہی ختم کریں گے۔ حامد خان نے کہا کہ جو 8 فروری کو ہوا تھا ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل بولے کہ معاملے پر ڈپٹی اسپیکر نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارا اس کمیٹی سے کوئی سروکار نہیں۔

بعدازاں، عدالت نے عمران خان کے وکیل حامد خان کو مزید تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

میر رضا قتل کیس: شاہراہ فیصل بلاک کرنے پر 100 کے قریب مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج

امریکی عدالت کا تاریخی فیصلہ، اے آئی کمپنی ‘اینتھروپک’ پر پینٹاگون کی عائد پابندیاں کالعدم قرار

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد

عوام اور اپوزیشن کی شدید مخالفت، حکومت نے متنازع ٹیلیکام ترمیمی بل واپس لے لیا

ویڈیو

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ