پیدائشی حق شہریت ختم کرنے سے متعلق صدر ٹرمپ کا حکمنامہ غیرآئینی قرار، عارضی طور پر معطل

جمعہ 24 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے ایک فیڈرل جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیدائشی حق شہریت کی ازسر نو تعریف کرنے والے ایگزیکٹو آرڈر کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اسے عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔

جمعرات کو امریکی فیڈرل جج کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے میں ٹرمپ انتظامیہ کو 14 دن کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد کے لیے کسی قسم کے اقدامات کرنے سے بھی روکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ حکم نامہ، پاکستان سے امریکا جانے کے منتظر ہزاروں افغانوں کا مستقبل خطرے میں پڑگیا

اس دوران فریقین صدر ٹرمپ کے پیدائشی حق شہریت سے متعلق حکم کے درست ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں مزید دلائل پیش کریں گے۔جج نے 6 فروری کو کیس کی سماعت بھی مقرر کی ہے جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ ایک ایسے وقت میں جب کارروائی جاری ہے آیا اس کیس کو طویل مدت تک روکا جانا چاہئے۔

خیال رہے کہ امریکی ریاستوں ایریزونا، الینوائے، اوریگون اور واشنگٹن نے صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کو عارضی طور پر روکنے کے لیے عدالت سے حکم امتناعی کی استدعا کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا غیرقانونی تارکین وطن کی پیدائشی شہریت ختم کرنے کا اعلان

یہ مقدمہ امریکا کی 22 ریاستوں اور تارکین وطن کے حقوق کے متعدد گروپس کی طرف سے دائر کیے گئے 5 مقدمات میں سے ایک ہے، جس میں ان اٹارنیز جنرل کی ذاتی شہادتیں بھی شامل ہیں جو پیدائشی حق کے لحاظ سے امریکی شہری ہیں۔

مقدمہ دائر کرنے والے افراد کا مؤقف ہے کہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم امریکا میں پیدا ہونے والے افراد کے لیے شہریت کی ضمانت دیتی ہے اور امریکی ریاستیں گزشتہ ایک صدی سے اس ترمیم کی یہی تشریح کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیاں پاکستان پرکس طرح اثراندازہوں گی؟

دوسری جانب، امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ وہ صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کا بھرپور طریقے سے دفاع کرے گا کیونکہ یہ آرڈر امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کی صحیح تشریح کرتا ہے۔

امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے مطابق، امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچے کو شہریت کا حق حاصل ہے جس کی توثیق 1868 میں کی گئی تاکہ خانہ جنگی کے بعد سابق غلاموں کے لیے امریکی شہریت کو یقینی بنایاجا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی 22 ریاستوں نے صدر ٹرمپ کا کون سا حکم عدالت میں چیلنج کردیا؟

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 19 فروری کے بعد پیدا ہونے والے ان بچوں کو جن کے والدین امریکا میں غیرقانونی طور پر موجود ہیں، امریکی شہریت نہیں دی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں