اپوزیشن کا گرینڈ الائنس اور شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے گھرآمد، مولانا کس کا ساتھ دیں گے؟

جمعہ 7 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علما اسلام، عوام پاکستان پارٹی سمیت دیگراپوزیشن جماعتوں نے گرینڈ الائنس قائم کیا ہے جس نے اپنے پہلے اعلامیہ میں ہی فی الفور نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی، جے یو آئی کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ، کیا اتحاد ہونے والا ہے؟

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ تمام جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ 8 فروری کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے، حکومت فی الفورمستعفی ہوکر نئے انتخابات کا اعلان کرے۔

اپوزیشن الائنس کے اعلامیہ کے بعد جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف )  کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کا اچانک دورہ کیا، مولانا فضل الرحمان کی تیمارداری کی اورصحتیابی کے لیے دعا کی، جبکہ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، مولانا فضل الرحمان نے وزیرِاعظم کی آمد اور نیک خواہشات پران کا شکریہ بھی ادا کیا۔

مزید پڑھیں:اپوزیشن جماعتوں کا آئین و قانون کی بالادستی کے لیے مل کر جدوجہد کرنے کا اعلان

وی نیوز نے تجزیہ کاروں سے گفتگو کی اوران سے جاننے کی کوشش کی کہ مولانا فضل الرحمان اپوزیشن الائنس یا حکومت کس کا ساتھ دیں گے؟

سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک بڑے سمجھدار سیاستدان ہیں، وہ بہت اچھے سے جانتے ہیں کہ سیاست میں کس طرف جانے سے زیادہ فائدہ اور کس طرف جانے سے زیادہ نقصان ہو گا، دیکھنا یہ ہو گا کہ حکومت اور اپوزیشن مولانا فضل الرحمان کو کیا کیا پیش کش کرتے ہیں، حکومت کے پاس اس وقت مولانا فضل الرحمان کو کوئی آفر دینے کے لیے زیادہ کچھ نہیں ہے، جبکہ اپوزیشن الائنس میں شامل ہو کر وہ جارحانہ انداز میں سیاست کرسکیں گے، اپنے ووٹر کو مطمئن کر سکیں گے۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ جمہوریت کی گاڑی کے 2 پہیے ہوتے ہیں ایک اپوزیشن اور ایک حکومت، دونوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے، اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کا ایک فائدہ تو یہ بھی ہے کہ حکومت کو ایک مضبوط اپوزیشن ملے گی لیکن جو اپوزیشن الائنس نے اعلامیہ جاری کیا ہے وہ بہت اہم ہے، الائنس نے پہلے دن ہی اس اسمبلی کو ختم کرنے اور نئے الیکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی  پڑھیں:تحریک تحفظ آئین پاکستان کی ملک گیر احتجاج کی حکمت عملی طے، جلسے کرنے کا فیصلہ

مولانا فضل الرحمان اگر کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے تو ان کے ساتھ ہونے والی دھاندلی کا فائدہ توپی ٹی آئی کو ہوا ہے کیونکہ مولانا کی نشستیں تو خیبرپختونخوا میں ہی ہوتی ہیں اور وہاں اس مرتبہ پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کواگراس وقت سب سے بڑا سیاستدان کہا جائے تو غلط نہ ہو گا، ابھی حال ہی میں 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر بھی ان کا کردار سب کے سامنے رہا ہے، اب اگر مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کے گرینڈ الائنس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے تو بہت سوچ کرکیا ہو گا، لیکن مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومت کا بھی ساتھ دیں گے اور وہی کردارادا کریں گے جو انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے وقت ادا کیا تھا۔

مزید پڑھیں:تحریک تحفظ آئین پاکستان: اپوزیشن اتحاد کو پہلا جھٹکا، جلسہ منسوخ

انصارعباسی نے مولانا فضل الرحمان کے اپوزیشن الائنس میں شامل ہونے سے متعلق کہا کہ جمیعت علمائے اسلام کا اگر کسی سیاسی جماعت کے ساتھ مقابلہ ہے تو وہ صرف پی ٹی آئی ہے، مولانا فضل الرحمان جو کہتے ہیں کہ عام انتخابات میں ان کی نشستیں کسی اور کو دی گئیں تو وہ دراصل خیبرپختونخوا کہ ہی نشستیں ہیں جو پی ٹی آئی نے جیتی ہیں، اس کے علاوہ ملک بھرمیں مولانا فضل الرحمان کو شائد ہی کسی حلقے میں انتخابی دھاندلی کی شکایت ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم