بارشوں اور برف باری میں کمی، کیا بلوچستان میں خشک سالی ہوسکتی ہے؟

پیر 17 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، انسان کی جانب سے دہائیوں تک فطرت میں کی جانے والی چھیڑ چھاڑ اب موسمیا تی تغیرات کے نتیجے میں منفی اثرات مر تب کررہی ہے۔

ان موسمی حالات سے پاکستان کے شمال مغرب میں واقع صوبہ بلوچستان بھی محفوظ نہیں رہا۔ ماضی میں جو صوبہ اپنے منفرد موسم کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک الگ مقام رکھتا تھا حالیہ چند سالوں میں موسمیاتی تبدیلی نے یہاں گہرے منفی نقوش چھوڑ دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں ملک میں خشک سالی کے خدشات: ’چنے کی تقریباً آدھی فصل کو نقصان پہنچ چکا ہے‘

رواں برس صوبے بھر میں بارشوں اور برف باری کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیر زمین پانی کی سطح متاثر ہورہی ہے۔

بات کی جائے اگر صوبے کے سب سے زیا دہ آباد شہر کوئٹہ کی تو کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح 1000 سے 1200 فٹ تک جا پہنچی ہے جبکہ زیر زمین پانی کی گراؤٹ میں سالانہ 10 سے 12 میٹر تک کمی واقع ہورہی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ بلوچستان میں گرتی پانی کی سطح کی ایک بڑی وجہ پانی ذخیرہ کرنے والے ڈیمز کا نہ ہونا ہے۔ حکومت ڈیمز تعمیر کرتی ہے لیکن مناسب میٹریل استعمال نہ ہونے سے یہ پائیدار نہیں رہتے۔ جس کی واضح مثال سال 2022 میں شدید بارشوں کے سبب آنے والے سیلاب میں دیکھی گئی۔ جب سیلاب کی وجہ سے ڈیمز ٹوٹ کر ناکارہ ہوگئے۔

’اس کے علاوہ حکومت بارشوں سے جمع ہو نے والے پانی کو بھی ذخیرہ کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں گیلن پانی ندی نالوں کی نذر ہو جا تا ہے۔‘

بات کی جائے اگر کوئٹہ کی تو کوئٹہ میں کل 405 ٹیوب ویلز میں سے 51 غیر فعال ہیں، پینے کے پانی کے لیے بنائے گئے فلٹریشن پلانٹس میں سے بھی 90 فیصد بند پڑے ہیں۔ ایسے میں کوئٹہ کے لوگوں کا انحصار فوسل واٹر پر ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہو تا جارہا ہے۔

سیکریٹری آبپاشی بلوچستان حافظ عبدالماجد کے مطابق صوبے میں پانی کے ذخائر کو بہتر بنانے اور زراعت کے فروغ کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں، اس ضمن میں پنجگور ڈیم اور خاران میں زیرتعمیر گروک ڈیم جیسے بڑے منصوبے نہ صرف زرعی ترقی بلکہ عوامی فلاح کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ پنجگور ڈیم جو اس سال شروع کیا گیا ہے، یہ علاقے میں سماجی و اقتصادی ترقی کی نوید ہے، اس منصوبے کے تحت 24 ہزار ایکڑ زمین کو سیراب کیا جائے گا جبکہ پنجگور کو پینے کے پانی کی ضروریات آئندہ 50 سال تک پوری ہوں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح خاران میں زیر تعمیر گروک ڈیم دسمبر 2025 تک مکمل ہوگا جس پر 27 ارب روپے کی لاگت آئےگی، اس ڈیم سے 12 ہزار 500 ایکڑ اراضی سیراب ہوگی اور آئندہ 45 سال تک علاقے میں پانی کی قلت دور کرنے میں مدد ملے گی۔

سیکریٹری آبپاشی بلوچستان حافظ عبدالماجد کے مطابق اس منصوبے سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا، مقامی معیشت کو استحکام ملے گا اور خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائےگی۔

یہ بھی پڑھیں طویل خشک سالی کے بعد ملکہ کوہسار مری میں برفباری، سیاحوں کی بڑی تعداد امڈ آئی

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں آبی وسائل کے بہتر استعمال، نہری نظام کی بحالی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کے ضیاع کو روکنے پر خصوصی توجہ دی جار ہی ہے۔ گروک ڈیم بلوچستان کی زرعی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا جو پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافہ کرےگا اور زرعی پیداوار کو فروغ دےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، جے ڈی وینس، وٹکاف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے، سی این این

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا