حماس جنگ بندی اور امریکی سمیت 5 یرغمالی رہا کرنے پر رضامند

اتوار 30 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حماس نے مصر اور قطر کی جانب سے غزہ میں 50 روزہ جنگ بندی کی تجویز کے تحت امریکا اور اسرائیل کے ایڈن الیگزینڈر سمیت 5 یرغمالیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ: عید کے موقعے پر اسرائیلی بمباری، 5 بچوں سمیت 8 افراد شہید

غیر ملکی میڈیا کے مطابق حماس کے رہنما خلیل الحیا نے 2روز قبل پیش کی گئی تجویز کی منظوری کے بعد جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان کردیا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے ہفتے کی شب کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے ثالثوں کو امریکاہ کے ساتھ مکمل تعاون کے ساتھ جوابی تجویز سے آگاہ کر دیا ہے۔

حماس کے رہنما نے گروپ نے غزہ میں شہری انتظامیہ کی نگرانی کے لیے ماہرین کی ایک آزاد تنظیم تشکیل دینے کے منصوبے کو قبول کرلیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حماس غیر مسلح نہیں ہوگی۔

کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، حماس رہنما

الحیا نے کہا کہ ہم کبھی بھی اپنے لوگوں کی بے عزتی اور توہین کو قبول نہیں کریں گے لہذا کوئی جلاوطنی یا نقل مکانی نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیے: سعودی عرب کی غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت، فلسطینیوں کے حق خودارادیت پر زور

انہوں نے کہا کہ جہاں تک مزاحمت کے ہتھیاروں کا تعلق ہے وہ ایک ریڈ لائن ہے جو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے منسلک ہے۔

یہ تجویز اسی طرح کی ہے جو کئی ہفتے قبل امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے پیش کی تھی۔ سی این این کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس میں ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی اضافی لاشوں کی رہائی بھی شامل ہے یا نہیں۔

اسرائیل کے خیال میں 24 یرغمالی اب بھی زندہ ہیں

جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران اسرائیل نے 25 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو وصول کیا ہے جبکہ اسے 4 یرغمالی کی لاشیں ملی ہیں۔

گیا ہے۔ اسرائیل اب تک 1135 قیدیوں کو رہا کر چکا ہے۔

اس تجویز میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی شرائط میں توسیع کی گئی ہے جس میں غزہ میں انسانی امداد کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔ اصل جنگ بندی کا پہلا مرحلہ 18 جنوری کو شروع ہوا اور یکم مارچ کو ختم ہوا۔

اس تجویز کے دوسرے مرحلے میں لڑائی کو مستقل طور پر روکنے اور اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق باقی یرغمالیوں کی واپسی اور فلسطینی انکلیو کو مکمل طور پر غیر فوجی بھی بنانا بھی ہوگا۔

مزید پڑھیں: غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد کی مذمت، اقوام متحدہ کا امداد کی فراہمی بحال کرنے پر زور

جب پہلے مرحلے کا معاہدہ یکم مارچ کو ختم ہوا تو اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ حملے کیے اور علاقے میں داخل ہونے والی انسانی امداد کی مکمل ناکہ بندی کر دی تھی۔

غزہ کی حماد کے زیر انتظام وزارت صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے فلسطینی علاقے میں 921 افراد مارے جاچکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جنگ میں غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 50 ہزار 82 فلسطینیوں کی شہادت اور ایک لاکھ 13 ہزار 408 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ دوسری جانب غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے شہادتوں کی تعداد 61 ہزار 700 سے زائد بتائی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم