ڈاکٹر ثنا اظہر: آٹزم آگاہی اور علم و امید کی مشعل بردار

بدھ 2 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈاکٹر ثنا اظہر کی کہانی صرف ایک ماہرِ نیورولوجسٹ کی نہیں بلکہ ایک ایسی ماں کی داستان ہے جس نے اپنے آٹزم سے متاثرہ بچے کی جدوجہد کو پوری قوم کی آواز بنا دیا۔ آٹزم کے میدان میں ان کی تحقیق، علاج کی کوششیں اور سماجی شعور کی مہم صرف پیشہ ورانہ دلچسپی نہیں بلکہ ذاتی عزم اور محبت کا مرقع ہیں۔ وہ نہ صرف اس حالت کے چیلنجز کو سمجھتی ہیں، بلکہ آٹزم سے متاثرہ افراد میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے دنیا بھر کیلئے اُمید کی کرن بنی ہوئی ہیں۔

آٹزم: اختلاف نہیں، تنوع کی پہچان

آٹزم دراصل نیورو ڈائیورجنٹ افراد کا وہ انوکھا سفر ہے جہاں سماجی رابطوں، رویوں یا گفتار میں مشکلات کے باوجود کچھ ذہن انتہائی غیر معمولی تخلیقی اور تجزیاتی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ثنا کے مطابق ‘آٹزم کو بیماری نہیں بلکہ انسانی دماغ کے مختلف ہونے کا اظہار سمجھنا چاہیے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان بچوں کی انفرادیت کو سمجھیں، ان کی آواز بنیں اور انہیں معاشرے کا فعال رکن بنائیں’۔

ان کا ماننا ہے کہ 18 ماہ سے 3 سال کی عمر میں تشخیص اور خصوصی تھیراپیز کے ذریعے ان بچوں کی زندگیوں میں انقلاب لایا جاسکتا ہے۔

جدید علاج اور پاکستان میں پیشرفت

اگرچہ آٹزم کا کوئی مستقل علاج نہیں لیکن جدید تھیراپیز جیسے اپلائیڈ بیہیویئر اینالیسز (ABA)، اکوپیشنل تھراپی اور اسپیچ اینڈ لینگویج انٹروینشنز نے ہزاروں خاندانوں کو نئی راہیں دکھائی ہیں۔ پاکستان میں ڈاکٹر ثنا کی قیادت میں پاکستان آٹزم ہیلتھ سائنسسز و ریسرچ فاؤنڈیشن اسلام آباد نہ صرف علاج بلکہ والدین کی تربیت، اسکولرز کے لیے گائیڈینس اور معاشرتی شمولیت کے پروگرامز چلا رہے ہیں۔ اس مرکز میں آٹزم کے شکار بچوں کی خصوصی تعلیم، آرٹ تھیراپی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے مواصلاتی مہارتوں پر زور دیا جاتا ہے۔

’ہر بچہ ایک وعدہ ہے‘، ڈاکٹر ثنا کا مشن

ڈاکٹر ثنا کی کوششوں سے پاکستان میں آٹزم کے حوالے سے پہلی قومی پالیسی کی تشکیل پر کام ہورہا ہے، جس کا مقصد معاشرے میں قبولیت، تعلیمی مواقع اور روزگار کے شعبوں میں آٹزم زدہ افراد کو با اختیار بنانا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ آٹزم سے متاثرہ بچے معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ ہمارے صبر، ہمدردی اور تخلیقی سوچ کو بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ ان کی ٹیم نے گزشتہ 5 سالوں میں ہزارہا بچوں کی تشخیص اور رہنمائی کی ہے جبکہ کئی سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کو آٹزم فرینڈلی بنانے میں مدد دی ہے۔

آگے کی راہ: ہر فرد ایک سپورٹر

ڈاکٹر ثنا کا پیغام ہے کہ آٹزم سے ڈریں نہیں بلکہ اسے سمجھیں۔ وہ عوامی شعور بڑھانے کے لیے ہر سال ’آٹزم ایکسیپٹنس ویک‘ کا انعقاد کرتی ہیں، جس میں ریلیز، ورکشاپس اور آٹزم زدہ بچوں کی فنکاری کی نمائش شامل ہوتی ہے۔ ان کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مفت تربیتی مواد، والدین کے لیے سپورٹ گروپس اور کونسلنگ سروسز دستیاب ہیں۔

امید کی کرن: ہم سب کی ذمہ داری

ڈاکٹر ثنا اظہر کی جدوجہد صرف ایک ماں یا ڈاکٹر کی کہانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سبق ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ہم کسی آٹزم زدہ بچے کی صلاحیتوں کو پہچان لیں، تو وہ معجزے تخلیق کرسکتا ہے۔ یہ ہماری اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر اس مشن کا حصہ بنیں کیونکہ ہر بچہ روشنی کا مستحق ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟