سیاست کر لیں یا پھر وکالت، معروف وکیل حامد خان کو سپریم کورٹ میں یہ مشورہ کس نے دیا؟

بدھ 9 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں بدھ کے روز کم از کم 2 مقدمات میں ایڈووکیٹ حامد خان کی عدم دستیابی کے باعث سماعت مزید کسی کارروائی کے بغیر ملتوی کردی گئی، ایک موقع پر سینیئر قانون دان کی غیرحاضری سے زچ ہوکر جسٹس جمال مندوخیل نے انہیں ’سیاست یا وکالت‘ میں سے ایک کے انتخاب کا مشورہ دیدیا۔

قاضی فائز عیسیٰ کو سابق وزیراعظم عمران خان کے مقدمات کی سماعت سے روکنے کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے دریافت کیا کہ کیا یہ کیس غیرموثر نہیں ہوگیا، عدالتی بینچ نے قاضی فائز عیسیٰ کو بانی تحریک انصاف عمران خان کے مقدمات کی سماعت سے روک دیا تھا۔

جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تو ریٹائر ہو گئے ہیں، کیا جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ لائیو ایشو ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شادی شدہ بیٹیوں کو مرحوم والد کے کوٹے پر ملازمت نہ دینا غیر قانونی اور امتیازی سلوک ہے، سپریم کورٹ

جسٹس جمال مندوخیل بولے؛ معاملہ کو حل تو کرنا پڑے گا، جج کو مقدمہ سننے سے روکنے کا عدالتی حکم دیا گیا، مستقبل کے لیے معاملہ حل کرنا پڑے گا، عدالتی استفسار پر حامد خان کے معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ حامد خان سینیٹ کمیٹی میں شرکت کی وجہ سے دستیاب نہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل  نے کہا کہ سینیٹ کمیٹی کا اجلاس کتنے بجے ہے، شیڈول دکھائیں، جس پرجونیئروکیل نے بتایا کہ سینیٹ کمیٹی کا اجلاس 2 بجے دوپہر ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل بولے؛ پھر تو حامد خان کو عدالت آنا چاہیے تھا، سیاست کر لیں یا پھر وکالت کر لیں۔

سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ حامد خان کی عدم دستیابی پر سماعت ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں:پشاور یونیورسٹی کا شعبہ صحافت ارشد شریف سے منسوب، خیبرپختونخوا یونین آف جرنلسٹس کا احتجاج

اسی طرح گلگت بلتستان کی عدلیہ میں کی گئی تعیناتیوں سے متعلق کیس کی سماعت بھی حامد خان کی عدم دستیابی کے باعث ممکن نہ ہوسکی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔

یہاں بھی وکیل رہنما حامد خان نے التوا کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گلگت بلتستان عدلیہ کا معاملہ سیاسی ایشو بن گیا ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے دریافت کیا کہ کیا زیر التوا کیس کی وجہ سے جی بی عدلیہ کی ورکنگ متاثر ہو رہی ہے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ عدلیہ کی ورکنگ کا ایشو تو آرہا ہے۔

مزید پڑھیں:بریت کے بعد ملزم پر جرم کا داغ ہمیشہ نہیں رہ سکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

عدالت نے حامد خان کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم