چترال کے کیلاش عقیدے سے تعلق رکھنے والی اور امریکا میں مقیم خاتون پائلٹ لکشن بی بی نے چترال کے تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں سے بھرا کینٹر تحفہ دیا ہے جو چند دنوں میں پہنچ جائے گا۔ لیکن کتابیں پہچنے سے پہلے ہی اعتراض اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:نیا کیلاش سروے منظر عام پر: ’مستقبل میں کیلاش لڑکوں کو شادی کے لیے لڑکی نہیں ملے گی‘
الکشن بی بی، جو تعلیم کے لیے کام بھی کرتی ہیں اور امریکا سے کتابیں بھجواتی رہتی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کتابیں بھجوانے کا بتایا تو مذہبی حلقوں پر نئی بحث چھڑ گئی۔ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر مذہبی حلقوں نے ان کتابوں پر سوالات اٹھا دیے۔
کتابیں نیویارک بورڈ سے منظور شدہ ہیں
کتابیں ارسال کرنے اور ان پر اعتراضات کے بعد لکشن بی بی چترال کے لوگوں کے لیے کھوار زبان میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ جس میں انہوں نے ان کتابوں پر بات کی۔ انہوں نے کچھ حلقوں کی جانب سے اعتراضات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کتابیں علمی خزانہ ہیں۔ اور اس بچوں میں کتاب بینی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کنٹینر میں 80 ہزار سے ایک لاکھ کے قریب کتابیں ہیں۔ جو اسکول اور کالج لیول کی ہیں۔ کتابوں میں کوئی متنازع مواد نہیں ہے۔ اعتراضات پر وضاحت دینے کے دوران لکشن بی بی آبدیدہ بھی ہوگئی اور واضح کیا کہ قرآن کے حکم ’اقرا‘ کے مطابق علم عام کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے ان کتابوں کی تمام اسکولوں اور کالجز میں یکساں تقسیم کی اپیل کی۔
مذہبی حلقوں کے اعتراضات کیا ہیں؟
لکشن بی بی کی جانب سے کتابوں کے تحفے پر جے یو آئی نے سوالات اٹھائے اور دیگر مذہبی حلقوں نے بھی ان کی تائید کی۔ جبکہ کچھ حلقوں نے ان کے اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیا۔
س
جے یو آئی نے کتابوں کو چترالی ثقافت، مذہب اور امن کو خطرہ قرار دیا۔ پارٹی کی جانب سے جاری مؤقف میں بتایا گیا کہ لکشن بی بی کے مطابق کتابیں نیویارک باقاعدہ سے منظور شدہ ہیں اور چترال اور نیویارک کے ثقافت، تہذیب اور مذہبی اقدار میں بہت زیادہ فرق ہے۔ جبکہ انہی اعتراضات کی بنا پر جمعیت علمائے اسلام (ف) نے گزشتہ روز آل پارٹیز کانفرنس کا بھی انعقاد کیا۔
کمیٹی تشکیل
کانفرنس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندگان نے شرکت کی، اجلاس میں محترمہ لیکشن بی بی کی جانب سے کتابوں پر بات ہوئی۔ مذکورہ کتب کا قانونی و دینی پہلوؤں سے جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جو کتابوں کے مندرجات کا مطالعہ کرکے اپنی سفارشات پیش کرے گی جس کے بعد ان کی تقسیم کا فیصلہ ہوگا۔














