خاموشیوں میں ڈوبتا معاشرہ، تنہائی، بیٹیاں اور بکھرتے رشتے

جمعہ 11 جولائی 2025
author image

انعم ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ دنوں چند المناک واقعات نے ہمیں نہ صرف چونکایا، بلکہ روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کبھی سینئر اداکارہ عائشہ کی تنہائی میں بے بسی سے موت، کبھی نوجوان باصلاحیت لڑکی ثنا یوسف کا سفاکانہ قتل، کبھی فنکارہ حمیرا اظہر کی خاموش رخصتی، اور کبھی ایک ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر ایک معصوم بچی کی جان کا چلے جانا۔ یہ سب محض خبریں نہیں، بلکہ ایک مردہ ہوتے معاشرے کی گونجتی ہوئی آہیں ہیں۔

ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں انسان کی سب سے بڑی دشمن تنہائی بن چکی ہے۔ ماضی میں جو تنہائی کبھی ذاتی سکون اور خود شناسی کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی، آج وہی تنہائی دہشت، بربادی اور خاموش اموات کا سبب بن رہی ہے۔

رشتوں میں دراڑ اور جذباتی بانجھ پن، گھروں میں بولتی خاموشیاں، اور اپنوں کا اجنبی بن جانا، یہ سب ہمارے جذباتی زوال کی علامتیں ہیں۔ ماں باپ مصروف، اولاد اپنی دنیا میں، شوہر صرف ضرورتوں تک محدود، اور بہن بھائیوں کے درمیان فاصلوں کی دیواریں۔ یہی وہ خلیجیں ہیں جو جنریشن گیپ، عدم برداشت اور محبت کی کمی کو جنم دیتی ہیں۔

خاص طور پر بیٹیاں، ان کے لیے تو یہ معاشرہ ایک مسلسل سوال بن چکا ہے۔ بیٹیاں قربانی نہیں، زندگی کی حقدار ہیں۔ ہر بیٹی اپنے خواب، اپنی خواہشات، اپنی ترجیحات رکھتی ہے۔ وہ صرف بیٹی، بیوی، یا ماں نہیں، بلکہ ایک مکمل انسان ہے جسے اپنی شناخت کے ساتھ جینے کا حق ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے، جب وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے، تو اکثر اسے حساس، ڈرامائی یا بے کار کہا جاتا ہے۔ وہ خاموش ہو جاتی ہے۔ اور وہی خاموشی، ایک دن اسے نگل لیتی ہے۔

سوشل میڈیا نے اس تنہائی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ لاکھوں فالوورز رکھنے والے لوگ جب دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، تو کئی دن تک کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ یہ وہ دنیا ہے جو بظاہر connected ہے، مگر اصل میں disconnected روحوں کا جنگل بن چکی ہے۔ ہر دلکش تصویر کے پیچھے ایک تھکا ہوا، بکھرا ہوا، اور ٹوٹا ہوا انسان چھپا ہوتا ہے۔

ہماری روحانی تنزلی کی جڑ دین سے دوری ہے۔ اسلام نے رشتوں کی قدر کو ایمان کا حصہ قرار دیا، بیٹی کو رحمت کہا، اور انسانوں کے درمیان محبت، قربت اور ذمہ داری کو لازمی گردانا۔ مگر ہم نے دین کو رسومات تک محدود کر دیا، دلوں سے رشتہ توڑ دیا۔

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے،
“مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے تنہا چھوڑتا ہے۔” (صحیح مسلم)

مگر ہم نے ایک دوسرے کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بیٹیاں تنہا، والدین لاچار، نوجوان بے چین، اور معاشرہ بے حس ہو چکا ہے۔

مجھے موت سے نہیں، ایسی خاموش، لاوارث موت سے ڈر لگتا ہے جہاں کوئی پوچھنے والا نہ ہو، جنازے میں شامل ہونے والا نہ ہو، اور لاش کئی دن بعد بے سرو سامانی میں ملے۔ کیا بیٹیوں کا، بزرگوں کا، ہم سب کا انجام یہی ہونا چاہیے؟ کیا ہم نے یہی معاشرہ تعمیر کیا تھا؟

اب بھی وقت ہے، ہمیں واپس لوٹنا ہوگا، رشتوں کی طرف، دین کی طرف، انسانیت کی طرف، کسی کی خاموشی کو سنیں، کسی کے چہرے کو غور سے دیکھیں، ہوسکتا ہے وہ مدد کی آخری دہلیز پر ہو۔

ہم سب کو عہد کرنا ہوگا کہ بیٹیوں کو جیتے جی عزت، وراثت اور پہچان دی جائے۔ والدین کو بڑھاپے میں تنہا نہ چھوڑا جائے۔ نوجوانوں کی بات سنی جائے، ان کے جذبات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور سب سے بڑھ کر، ایک دوسرے کی موجودگی کو محسوس کیا جائے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم