حمیرا اصغر کی موت کب ہوئی اور اس کے بعد کس کس نے اداکارہ سے رابطہ کیا؟

پیر 14 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کیسے ہوئی؟ یہ ایسا سوال ہے جو اس وقت ہر پاکستانی جاننے کی کوشش کر رہا ہے اور پولیس اس معاملے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، کڑیاں سلجھتی جائیں گی اور ایک دن اس بات کا تعین ہو ہی جائے گا کہ موت کی اصل وجہ کیا تھی۔

اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا ہے کہ لاش خراب ہونے کی بو 5 سے 40 دن تک ہوتی ہے، اس مدت کے دوران حمیرا اصغر کے ہمسائے بھی اپنے فلیٹ میں نہیں تھے۔

اسد رضا کے مطابق حمیرا اصغر کے پڑوس والا فلیٹ بھی کافی عرصہ خالی تھا، جہاں حمیرا اصغر کی لاش تھی ساتھ والے کمرے میں واش روم کی کھڑکی کھلی تھی، ہوسکتا ہے کہ کھڑکی کے ذریعے لاش کی بو باہر نکلتی رہی ہو۔

مزید پڑھیں: اداکارہ حمیرا اصغر کی کئی مہینے پرانی لاش، سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے

اسد رضا نے مزید کہا ہے کہ فلیٹ کی منیجمنٹ کمیٹی چوکیدار اور ہمسائے کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا، حمیرا اصغر کراچی سے لاہور سفر کرتی رہتی تھیں، ہوسکتا ہے کہ لوگوں نے سمجھا ہو کہ حمیرا اصغر لاہور گئی ہوں۔

ڈی آئی جی اسد رضا کے مطابق 7 اکتوبر کو یہ واقعہ پیش آیا، واقعے کے بعد 3 دن میں ایک بار چوکیدار نے حمیرا کو فون بھی کیا لیکن جواب نہیں آیا۔ 7 اکتوبر کے بعد حمیرا اصغر کے ایک دوست نے بھی ایک بار فون کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں