بٹ کوائن 1 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

پیر 14 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بٹ کوائن نے پیر کے روز پہلی بار ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر کی حد عبور کر کے ایک اہم سنگِ میل حاصل کر لیا ہے۔ سرمایہ کار اس ہفتے امریکی پالیسی سازوں کی جانب سے متوقع قواعد و ضوابط کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں، جو کرپٹو کرنسی کی صنعت کو درکار ضابطہ کار فراہم کریں گے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان اس ہفتے کئی بلوں پر بحث کرے گا جن کا مقصد ڈیجیٹل اثاثہ انڈسٹری کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک بنانا ہے، جو اس عرصے سے اس شعبے کی ایک بڑی خواہش رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے خود کو کرپٹو صدر کہا ہے، بھی اس شعبے کے حق میں قوانین کی اصلاح پر زور دے رہے ہیں۔

ان توقعات نے بٹ کوائن کو ایشیائی سیشن میں ایک لاکھ 21 ہزار 207.55 ڈالر کی نئی ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا۔ اس وقت بٹ کوائن 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 20 ہزار 856.34 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا کرپٹو معیشت کی جانب تاریخی قدم: بلاک چین اور بٹ کوائن ذخائر قومی نظام کا حصہ بننے کو تیار

سال 2025 میں بٹ کوائن کی قیمت میں اب تک 29 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے، جس کے اثرات دیگر کرپٹو کرنسیوں پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ کرپٹو کی دوسری بڑی کرنسی ایتھریم بھی پیر کو 3,048.23 ڈالر کی 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور اس وقت 3,036.24 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہی تھی۔

کوائن مارکیٹ کیپ کے مطابق، کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی مجموعی قیمت اب قریباً 3.78 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو اس شعبے کی مضبوطی اور وسعت کی عکاسی کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں