اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت، تفتیش میں مزید انکشافات سامنے آگئے

بدھ 16 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

8 جولائی کو کراچی کے علاقے ڈیفینس کے ایک فلیٹ سے اداکارہ حمیرا اصغر کی کئی ماہ پرانی لاش کی دریافت کے بعد سے پولیس ان کی پراسرار موت کے حوالے سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کراچی پولیس کے تفتیشی حکام کے مطابق فلیٹ سے یوٹیلیٹی بل اورگھر کےکرائےکی مئی 2024 تک کی سلپ ملی ہے، اداکارہ کی موت سے قبل کپڑے دھونے کے بھی شواہدملے ہیں، لاش بیڈروم کے ساتھ والے کمرے میں موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حمیرا اصغر کی موت: تحقیقات میں اہم پیشرفت، 75 نمبروں سے مسلسل رابطے کا انکشاف

تفتیشی حکام کے مطابق جس کمرے سے لاش ملی اس کے واش روم کے ٹب میں کپڑے تھے، جس کمرے میں لاش تھی وہاں بالکونی کادروزاہ کھلاہواتھا، اداکارہ حمیرا اصغر کی موت 7 اکتوبر2024 کو ہوئی، پڑوسیوں کو دسمبر 2024 میں فلیٹ سے بدبو محسوس ہوئی۔

پولیس حکام کے مطابق قتل کا امکان فی الحال اتنا مضبوط نہیں کیونکہ اپارٹمنٹ اندر سے ڈبل لاک تھا اور کوئی زبردستی داخلے کے آثار نہیں ملے، کیمیائی تجزیے اور فورینزک رپورٹس کا انتظار ہے تاکہ موت کی حقیقی وجہ معلوم ہو سکے۔

مزید پڑھیں: حمیرا اصغر کی موت کب ہوئی اور اس کے بعد کس کس نے اداکارہ سے رابطہ کیا؟

واضح رہے کہ 42 سالہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے فیز 6 میں ان کے کرائے کے اپارٹمنٹ سے ملی تھی، جب کرائے کی مد میں واجبات ادا نہ کرنے کی وجہ سے عدالتی حکم پر بے دخلی کے لیے عدالتی بیلف اس اپارٹمنٹ پہنچا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں