جنوبی شام کے صوبہ سویدا میں ایک ہفتے کی مہلک فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد اتوار کے روز امن بحال ہوگیا۔ دروز جنگجوؤں اور ان کے حریف قبائلی گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک 1100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہفتے کو اعلان کردہ جنگ بندی پر بظاہر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ اس سے قبل کی مصالحتی کوششیں ناکام رہی تھیں، اور پرانی دشمنی رکھنے والے دروز اور بدو قبائل کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی تھی، جس میں حکومتی افواج، اسرائیلی فوج اور دیگر علاقوں کے قبائلی گروہ بھی شامل ہو گئے تھے۔
اتوار کی صبح سویدا شہر کے نواح میں تعینات اے ایف پی نمائندوں نے اطلاع دی کہ علاقے میں کسی قسم کی جھڑپ کی آواز سنائی نہیں دی۔ حکومتی فورسز کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ جنگ بندی پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:پیوٹن اور اردوان کے درمیان رابطہ: اسرائیلی حملے شامی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار
ریڈ کریسنٹ کے اہلکار عمر المالکی نے بتایا کہ پہلا انسانی ہمدردی کا امدادی قافلہ اتوار کو شہر میں داخل ہوا، جس کے بعد مزید قافلوں کی آمد متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قافلہ حکومت اور مقامی دروز حکام کے تعاون سے بھیجا گیا، تاہم شامی حکومت کا کہنا ہے کہ ایک دروز گروپ نے اس کے اپنے قافلے کو شہر میں داخلے سے روک دیا۔
39 سالہ مقامی ڈاکٹر ہنادی عبید نے بتایا کہ شہر میں ایک ہفتے بعد ایسا سکون دیکھنے کو ملا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق، شہر کو قبائلی جنگجوؤں سے خالی کرا لیا گیا ہے اور اندرونی علاقوں میں لڑائی رک چکی ہے۔
عارضی صدر احمد الشرع نے ہفتے کے روز جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے نسلی و مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے عزم کو دہرایا۔ شام کے قبائل اور کلان کونسل کے ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ جنگجوؤں نے صدر کے مطالبے اور معاہدے کی شرائط کے تحت شہر چھوڑ دیا ہے۔
مزید پڑھیں:شام میں دروز اور بدو قبائل کے درمیان جنگ بندی ناکام، جھڑپیں دوبارہ سے شروع
سویدا کے اسپتال کے ایک طبی اہلکار نے اے ایف پی کو فون پر بتایا کہ صورتحال مکمل طور پر پرسکون ہے، ہمیں کہیں سے فائرنگ کی آواز نہیں سنائی دے رہی۔
قریباً ڈیڑھ لاکھ کی آبادی پر مشتمل شہر کے باسی گزشتہ کئی دنوں سے گھروں میں محصور ہیں، جہاں بجلی اور پانی کی فراہمی بند ہے جبکہ خوراک بھی ناپید ہو چکی ہے۔ ایک فوٹوگرافر نے رپورٹ کیا کہ سویدا کے مرکزی اسپتال کی مردہ خانے میں لاشوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور کئی لاشیں باہر زمین پر پڑی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ہجرت ایجنسی کے مطابق، صوبہ سویدا میں جھڑپوں کے باعث اب تک ایک لاکھ 28 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے اتوار کو کہا کہ شام ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، امن اور مکالمے کو فوراً غالب آنا چاہیے۔ انہوں نے تمام فریقین سے ہتھیار ڈالنے، دشمنی ختم کرنے اور قبائلی انتقام کے چکر سے نکلنے کی اپیل کی۔
مزید پڑھیں:شام کی تقسیم ناقابلِ قبول، اسرائیل دہشتگرد ریاست ہے، رجب طیب اردوان
شام کی عبوری حکومت کے صدر الشرع کی جنگ بندی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا نے بتایا کہ اس نے شام اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کروائی ہے۔ اسرائیل نے پچھلے ہفتے سویدا اور دارالحکومت دمشق میں شامی افواج کو بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دروز کمیونٹی کے تحفظ کے لیے یہ اقدام کر رہا ہے اور جنوبی شام کو مکمل طور پر غیر فوجی علاقہ بنانا چاہتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ شدت پسندوں کو داخل ہونے سے روکے اور انہیں قتل عام سے باز رکھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شام اپنی فورسز میں شامل ان عناصر کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لائے جو مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں۔














