بحرین کا گولڈن ویزا کن پاکستانیوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے؟

منگل 29 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بحرین نے غیر ملکیوں کے لیے ایک نئی ’گولڈن ریزیڈنسی ویزا‘ اسکیم متعارف کرادی جو 10 سال کی طویل مدتی رہائش فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیریبین جزائر: سرمایہ کاری کے بدلے شہریت، پاسپورٹ اور ویزا فری دنیا

اس اسکیم کا مقصد سرمایہ کاروں، باصلاحیت افراد، ریٹائرڈ شہریوں اور ان غیر ملکیوں کو فائدہ دینا ہے جو طویل عرصے سے بحرین میں مقیم ہیں۔ ویزا حاصل کرنے والوں کو بحرین میں بغیر کسی کفیل کے رہنے، کام کرنے، کاروبار کرنے اور اپنے اہل خانہ کو ساتھ رکھنے کی اجازت حاصل ہوگی۔

مزید پڑھیے: ’سوشل میڈیا پوسٹس نوجوانوں کے مستقبل کی دشمن، ویزا اور نوکری کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے‘

پاکستانی شہری بھی اس گولڈن ویزے کے لیے اہل قرار دیے گئے ہیں بشرطیکہ وہ اسکیم کی مقررہ شرائط پوری کریں۔ خاص طور پر وہ پاکستانی جو پہلے سے بحرین میں ملازمت کر رہے ہیں یا سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند ہیں اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

گولڈن ویزے کی کتنی اقسام ہیں؟

گولڈن ریزیڈنسی ویزے کے لیے حکومتِ بحرین نے 4 اقسام مقرر کی ہیں:

1۔ وہ غیر ملکی جو کم از کم 5 سال سے بحرین میں کام کر رہے ہوں اور ان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 2،000 بحرینی دینار ہو؛

2۔ وہ افراد جنہوں نے بحرین میں کم از کم 200،000 دینار کی جائیداد خرید رکھی ہو؛

3۔ وہ ریٹائرڈ افراد جن کی پنشن 2،000 دینار یا بیرونِ ملک سے آمدن 4،000 دینار ماہانہ ہو؛

4۔وہ باصلاحیت افراد جنہیں بحرین کی کسی سرکاری اتھارٹی نے غیر معمولی ٹیلنٹ کے طور پر تسلیم کیا ہو۔

ویزا حاصل کرنے کے بعد یہ لازمی ہے کہ سالانہ کم از کم 90 دن بحرین میں قیام کیا جائے۔ اور ویزہ ہولڈر اپنے اہلِ خانہ کو بھی اپنے ساتھ لا سکتا ہے۔

درخواست کا طریقہ کار اور فوائد

گولڈن ویزے کے لیے درخواست کا عمل مکمل طور پر آن لائن ہے۔ درخواست دہندہ کو متعلقہ مالی، پیشہ ورانہ یا سرمایہ کاری کے ثبوت کے ساتھ ابتدائی فیس جمع کروانی ہوگی اور اپنی اہلیت کے مطابق متعلقہ کٹیگری میں اپلائی کرنا ہوگا۔ منظوری کی صورت میں 10 سالہ رہائشی ویزا جاری کیا جاتا ہے، جسے بعد میں تجدید بھی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے مواقع

بحرین کی یہ اسکیم نہ صرف وہاں کی معیشت کو فروغ دے گی بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک سے ہنر مند افراد کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔ خاص طور پر پاکستانی پروفیشنلز، بزنس مین اور ریٹائرڈ افراد کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ قانونی اور محفوظ طریقے سے طویل مدتی رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں