’قلات آپریشن میں مارے گئے دہشتگرد کی شناخت نے لاپتا افراد کے دعوؤں کی حقیقت آشکار کر دی‘

منگل 29 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قلات آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والا دہشتگرد صہیب لانگو، جسے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتا افراد کی فہرست میں شامل ظاہر کیا گیا تھا، دراصل فتنہ الہندوستان کا سرگرم رکن تھا۔

یہ بھی پڑھیں:فتنہ الخوارج کے ڈرون حملے: بھارتی فنڈنگ اور افغان سرپرستی کا مکروہ گٹھ جوڑ بے نقاب

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نام نہاد لاپتا افراد کی آڑ میں دہشتگردی میں ملوث عناصر کے ناقابل تردید شواہد منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کئی دہشتگردوں کو جان بوجھ کر لاپتا افراد ظاہر کر کے ریاست کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کی گئی۔

ذرائع کے مطابق مارچ 2024 میں گوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان، اور نیول بیس حملے میں ہلاک ہونے والا عبدالودود بھی اسی طرح لاپتا افراد کی فہرستوں میں شامل تھے۔

صہیب لانگو کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر اس کی ماہ رنگ لانگو کے ساتھ مظاہروں کی متعدد تصاویر اور ویڈیوز بھی موجود ہیں، جو اس تعلق کو مزید ثابت کرتی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہ رنگ لانگو نے ہمیشہ لاپتا افراد کے بیانیے کو ریاست دشمن عزائم کی تکمیل اور پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں:فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ فتنہ الہندوستان سے منسلک میڈیا پلیٹ فارمز ’پانک‘ اور ’بام‘ نے دہشتگرد صہیب لانگو کو 25 جولائی 2024 کو لاپتا قرار دیا، جب کہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسے 24 جولائی کو سریاب، کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتا کیا گیا تھا۔

21 جولائی 2025 کو قلات میں ہونے والے سیکیورٹی آپریشن کے نتیجے میں صہیب لانگو عرف عامر بخش ہلاک ہوا، جس کی ہلاکت اور فتنہ الہندوستان سے وابستگی کو خود تنظیم نے تسلیم کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہروں میں شرکت کرنے والے کئی افراد درحقیقت دہشتگردوں کے آلہ کار اور سہولت کار ہیں، جو چہرے چھپائے ریاستی اداروں کے خلاف پراپیگنڈا کرتے ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق مستند شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی، فتنہ الہندوستان کی پراکسی تنظیم کے طور پر کام کر رہی ہے، اور جن افراد کو لاپتا ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ان میں سے کئی دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث نکلے ہیں۔ ذرائع نے زور دیا ہے کہ ریاست مخالف بیانیے کے خلاف حقائق پر مبنی اقدامات اور آگاہی ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فرانس کا عالمی چیمپئن بننے کا خواب چکنا چور، اسپین فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!