نقلی ڈگری مگر خواتین کو اصلی خطرہ، آسام میں جعلی گائناکالوجسٹ پکڑا گیا

منگل 5 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ریاست آسام میں جعلی گائناکالوجسٹ کئی برس تک خواتین کی زندگیوں سے کھیلتا رہا، جسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آسام کے ضلع شری بھومی سے تعلق رکھنے والا ایک 43 سالہ شخص کئی برسوں تک خود کو گائناکالوجسٹ ظاہر کرکے خواتین کی زندگیوں سے کھیلتا رہا۔ پولیس نے جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کرکے انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ 9 برسوں سے مختلف اسپتالوں میں خدمات انجام دے رہا تھا اور اب تک کم از کم 50 سیزیرین آپریشنز میں معاونت کرچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن ویڈیوز کی مدد سے دانتوں کا علاج کرنے والا جعلی ڈینٹسٹ خاندان پکڑا گیا

پولیس کے مطابق ملزم پلک ملاکر ولد مکترنجن ملاکر کو ضلع کاچر کے ایک اسپتال سے گرفتار کیا گیا۔ وہ سیلچر کے معروف اسپتال شیوا سندری ناری شکشا آشرم میں بطور ماہر امراضِ نسواں اور زچگی کام کررہا تھا، ملزم نے جعلی ایم بی بی ایس کی ڈگری اور دیگر دستاویزات کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی تھی۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق پلک ملاکر 2016 میں سیلچر منتقل ہوا اور اس کے بعد مختلف نجی اسپتالوں میں بھی کام کرتا رہا۔ شکایات اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر اسے گرفتار کیا گیا۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف بھارتی فوجداری قانون، بھارتیہ نیائے سنہیتا کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی انجیکشن سے متاثرہ مریضوں کی سرجری بھی کی جائے گی: ڈاکٹر جاوید اکرم

ان دفعات میں دفعہ 125 (ایسے غفلت آمیز اقدامات جو انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالیں)، دفعہ 271 (مہلک بیماری پھیلانے میں غفلت)، دفعہ 318(4) (دھوکہ دہی)، دفعہ 319(2) (شخصیت کا جھوٹا دعویٰ کر کے دھوکہ دہی)، دفعہ 336(4) (بدنیتی پر مبنی جعلسازی)، دفعہ 340(2) (جعلی دستاویزات کو اصلی ظاہر کرنے) اور دفعہ 112(2) (چھوٹے پیمانے پر منظم جرائم) شامل ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ مزید تفتیش جاری ہے اور اس امر کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ آیا ملزم کی غفلت یا ناتجربہ کاری سے کسی مریض کو نقصان پہنچا یا کوئی جانی نقصان ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس میں میڈیکو لیگل آفیسر میرپورخاص سے گرفتار

علاقے میں اس واقعے کے بعد شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ عوامی سطح پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر اتنے برسوں تک ایک جعلی ڈاکٹر کو کھلی چھوٹ کیسے ملی۔ صحت کے محکمے پر بھی انگلیاں اٹھنے لگی ہیں کہ اس قدر حساس شعبے میں بنیادی تصدیق کے بغیر ملازمت کیسے دی گئی۔

متاثرہ اسپتالوں کی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے اب ذمہ داریوں کے تعین کے لیے انکوائری کا سامنا کر رہے ہیں۔ پولیس نے اس واقعے کو سنگین مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے مزید گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

پاکستانی گانوں پر ناروے کا آرٹسٹ بھی جھوم اٹھا، لاہور کی سُرتال اکیڈمی کے بچوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

صائمہ بی بی قتل کیس، سپریم کورٹ نے عمر قید کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

17 لاکھ کی گیس چوری کا ثبوت کہاں ہے؟ وفاقی آئینی عدالت کا ایس این جی پی ایل پر اظہارِ برہمی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں