غفلت، ناقص ڈیزائن اور نگرانی سے بچنے کی کوششوں نے 5 جانیں لیں، ٹائٹن آبدوز سانحے کی رپورٹ جاری

منگل 5 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی بحرِ اوقیانوس کی گہرائیوں میں ٹائٹینک کے ملبے کی تلاش کے دوران تباہ ہونے والی آبدوز ’ٹائٹن‘ سے متعلق امریکی کوسٹ گارڈ نے 2 سال بعد ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس سانحے سے بچا جاسکتا تھا، لیکن اوشین گیٹ کمپنی کی ناقص حفاظتی پالیسیوں اور نگرانی سے بچنے کی حکمتِ عملی نے مسافروں کی جانیں خطرے میں ڈالیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ٹائٹن‘ کی باقیات نکال لی گئیں، ماہرین حادثے کی وجہ جاننے کے لیے کوشاں

یہ المناک واقعہ 18 جون 2023 کو پیش آیا جب ٹائٹن آبدوز، جو اوشین گیٹ نامی امریکی کمپنی کی ملکیت تھی، ٹائٹینک کے ملبے کی طرف جاتے ہوئے شدید پانی کے دباؤ سے تباہ ہو گئی۔ اس ہولناک اندرونی دھماکے (implosion) میں 5 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جن میں اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش، پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد، برطانوی مہم جو ہی مش ہارڈنگ اور فرانسیسی غوطہ خور پال ہینری نارجولیٹ شامل تھے۔

 آبدوز کی ساخت اور خطرناک خامیاں

اوشین گیٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹائٹن میں جدید کاربن فائبر کی سلنڈر نما کیبن موجود ہے، جو دوسرے زیرِ سمندر جہازوں کے مقابلے میں زیادہ کشادہ ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ ڈیزائن روایتی ٹائٹینیئم کی بنی ہوئی گول کیبنوں سے مختلف اور کم محفوظ تھا، کیونکہ گول شکل پانی کے دباؤ کو یکساں طور پر برداشت کرتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ سمندر کی جس گہرائی میں ٹائٹینک واقع ہے (تقریباً 12,500 فٹ یا 3,800 میٹر)، وہاں کا دباؤ 400 ایٹموسفیر یعنی 6,000 پاؤنڈ فی مربع انچ تک ہوتا ہے، جو کسی بھی کمزور ساخت کو لمحوں میں تباہ کرسکتا ہے۔

مسلسل دباؤ، موسمی اثرات، اور غفلت

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹائٹن نے 2 درجن سے زائد گہرے سمندر کے سفر کیے، جس سے اس کے ڈھانچے پر مسلسل دباؤ پڑا۔ مزید برآں یہ آبدوز کینیڈا کی سردیوں میں باہر کھلی جگہ پر رکھی گئی، جس سے درجہ حرارت کی تبدیلیوں نے اس کے ڈھانچے کی مضبوطی کو متاثر کیا۔

ادارے کا رویہ اور رپورٹ کے انکشافات

رپورٹ کے مطابق اوشین گیٹ نے جان بوجھ کر حفاظتی انتباہات کو نظر انداز کیا، شفافیت سے گریز کیا اور جھوٹے دعوے کیے تاکہ اپنی ساکھ بہتر بنائی جاسکے اور ضابطہ جاتی اداروں کی نظروں سے بچا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹائٹینک حادثہ: آخری لمحات میں کیا ہوا تھا، اصل صورتحال کا سراغ لگ گیا

کوسٹ گارڈ نے الزام عائد کیا کہ کمپنی نے ’ریگولیٹری الجھن اور نگرانی کے خلا‘ کو استعمال کرتے ہوئے ٹائٹن کو مکمل طور پر روایتی حفاظتی پروٹوکولز سے باہر رکھا۔

متعدد سابق ملازمین نے سانحے کے بعد انکشاف کیا کہ کمپنی میں زہریلا ماحول تھا جہاں حفاظتی خدشات ظاہر کرنے والے عملے کو نظرانداز، معطل یا برطرف کر دیا جاتا تھا۔

نتیجہ اور سفارشات

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر حفاظتی اصولوں پر عمل کیا جاتا اور شفافیت اختیار کی جاتی تو یہ حادثہ روکا جا سکتا تھا۔ رپورٹ میں آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے 17 سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔

بحری تحقیقاتی آبدوزوں کی واضح قانونی تعریف مقرر کی جائے تاکہ ان پر باقاعدہ قواعد و ضوابط لاگو ہو سکیں۔

ایسی تمام آبدوزوں کو جو گہرے سمندر میں جاتی ہیں، بین الاقوامی اور قومی قوانین کے تحت لایا جائے۔

تمام آبدوزیں کوسٹ گارڈ کے پاس رجسٹر ہونا لازم قرار دی جائیں۔

ہر غوطہ کی مکمل منصوبہ بندی، حفاظتی تفصیلات اور ایمرجنسی پروٹوکول پہلے سے متعلقہ اداروں کو جمع کروایا جائے۔

غیر روایتی ڈیزائن یا نئی ٹیکنالوجی والی آبدوزوں کی حفاظتی جانچ آزاد ماہرین سے کروائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹائٹینک جہاز کی کہانی، ہنری پال نارجیولیٹ کی یادوں میں!

کوسٹ گارڈ کے تکنیکی ماہرین اور انجینیئرز کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ مؤثر نگرانی ممکن ہو۔

گہرے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو کی موجودہ صلاحیت کو جدید آلات اور تربیت کے ذریعے بہتر کیا جائے۔

بین الاقوامی سطح پر آبدوزوں کے لیے یکساں ضوابط بنانے کے لیے عالمی تنظیموں سے تعاون کو فروغ دیا جائے۔

ان آبدوزوں کے لیے ایک متفقہ عالمی تعریف مرتب کی جائے تاکہ قانونی ابہام دور ہو سکے۔

ملازمین کو محفوظ طریقے سے شکایات درج کروانے کی سہولت دی جائے اور سی مین پروٹیکشن ایکٹ کا مکمل اطلاق کیا جائے۔

شکایات کی چھان بین اور تحفظ کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے محکمہ محنت اور کوسٹ گارڈ میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔

قوانین کی کمی والے شعبوں کی نشاندہی کر کے وہاں جامع ضوابط متعارف کروائے جائیں۔

جدید یا خطرناک آپریٹنگ ماڈلز والی کمپنیوں پر خصوصی نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔

ہر غوطہ سے قبل آپریشنل منظوری، حفاظتی تیاریوں اور خطرات کا مکمل جائزہ لیا جائے۔

کوسٹ گارڈ کے پاس انجینیئرنگ اور تکنیکی مشاورت کے لیے ماہرین کا مستند پینل تشکیل دیا جائے۔

آبدوزوں کی تیاری کے تمام مراحل پر قانونی منظوری اور سیفٹی ریویو کو لازم بنایا جائے۔

زیرِ آب سرچ اینڈ ریسکیو کی صلاحیت کا سالانہ بنیادوں پر مکمل تجزیہ کیا جائے اور اس میں تسلسل سے بہتری لائی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں