ہمیں جب روکا جائے گا تو ہم اڈیالہ کیسے پہنچیں گے؟ شہریار آفریدی کا وی نیوز کو خصوصی انٹرویو

بدھ 6 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ ہمیں جب روکا جائے گا تو ہم اڈیالہ کیسے پہنچیں گے؟

وی نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو کے دوران شہریار آفریدی نے کہا کہ ہم سب اپنے اضلاع میں تھے۔ بہت آسان تھا کہ ہم اپنے ضلعوں میں احتجاج کی قیادت کرتے، وہاں تقاریر کرتے۔  لیکن تمام تر مقدمات کے باوجود ہم اسلام آباد آئے حالانکہ یہاں دفعہ 144 لگی ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم پارٹی پالیسی کی وجہ سے اسلام آباد آئے، یہاں میاں محمد اظہر کے حوالے سے ایک تعزیتی ریفرنس میں شرکت کی، اس کے بعد ہمیں کہا گیا کہ 5 اگست کو کے پی ہاؤس سے سارے ارکان قومی اسمبلی اڈیالہ جیل جائیں گے۔ رات کو سیاسی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سے درخواست کی کہ ہم پارلیمنٹ جائیں گے اور وہاں تقریر کریں گے۔ اس کے بعد ہم سب ایم این ایز اڈیالہ جائیں گے۔ چنانچہ پارلیمنٹ میں تقریریں ہوئیں، اس کے بعد جب ہم باہر نکلنے لگے تو  ایم این ایز کو بتایا گیا کہ گیٹ بند ہے۔ چنانچہ بعض ایم این ایز پچھلے گیٹ سے نکل گئے۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ ہماری پلاننگ تھی کہ ہم ایک ٹیم کی صورت میں یہاں سے جائیں گے لیکن انہوں نے پارلیمنٹ کو محصور کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ ہیں جن پر مقدمات ہیں، جن کے گھروں کی عزتوں کے جنازے نکلے، جن کی تذلیل ہورہی ہے، ہم ہی سے الٹا سوال ہورہا ہے کہ آپ لوگ اڈیالہ کیوں نہیں پہنچے۔ کوئی اس پر بات نہیں کررہا ہے کہ گیٹ کیوں بند کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے بہت آسان تھا کہ ہم اپنے اضلاع میں بیٹھے رہتے، اسلام آباد ہی نہ آتے، کوئی بہانہ کرلیتے۔  لیکن ہم یہاں آئے، جب ہم نے اڈیالہ جانے کی کوشش کی تو ہمارے راستے روکے گئے۔ تحریک انصاف کے رہنما نے بتایا کہ ہم 23، 24 ایم این ایز تھے۔  ہم نے طے کیا تھا کہ ہم نے مل کے جانا ہے لیکن ہمیں روک دیا گیا۔

عمران خان 2 سال سے قید میں ہیں، آپ لوگ آخر انہیں کیوں رہا نہیں کرا سکے؟ اس سوال کے جواب میں شہریار آفریدی نے کہا کہ کچھ بھی ہوجائے، جیت عمران خان کی ہوگی۔ وہ جیل سے نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی جدوجہد کرسکتے ہیں۔ ہم گوریلا جنگ کے ماہر نہیں ہیں، نہ ہم کسی اور سوچ والے ہیں۔ ہم آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کرسکتے ہیں۔ اپنا مقدمہ مختلف فورمز پر لڑتے ہیں۔ چاہے وہ سینیٹ ہوں یا قومی و صوبائی اسمبلیاں ہوں۔ چاہے وہ عدالتیں ہوں یا عوام کے درمیان چوک چوراہے ہوں۔

’ہم پر پابندیاں لگی ہوئی ہیں، ہم پر دہشتگردی کے مقدمات ہیں۔ ہمارے بندے شہید ہوئے، ہمارے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا۔‘

بیرسٹر گوہر خان سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں شہریار آفریدی نے کہا کہ  میرے لیڈر نے جس کو ذمہ داری دی ہے، اس کی عزت مجھ پر فرض ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

سندھ طاس معاہدہ: بیشتر بھارتی ماہرین بھی پاکستان کے موقف کے حامی ہیں

سپریم کورٹ: سزا بڑھانے کی اپیل خارج، 14 سال بعد رہائی پا چکے قیدی کے بارے اہم حکم

’سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا‘، پاکستان کے مؤقف کو عالمی پذیرائی

افغانستان میں دہشتگردوں کی کھلی پذیرائی پر اقوام متحدہ کی خاموشی پر سوالات

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ