حج درخواستوں کی وصولی کا پہلا مرحلہ مکمل، 71 ہزار سے زیادہ درخواستیں جمع

ہفتہ 9 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حج 2026 کے لیے درخواستوں کی وصولی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی وزارتِ حج و عمرہ کا انقلابی قدم، نسک ایپ انٹرنیٹ کے بغیر بھی قابلِ استعمال

وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق حج درخواستوں کی وصولی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ آن لائن پورٹل اور نامزد بینکوں کے ذریعے جمع کرائی گئی درخواستوں کی تعداد 71 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اخراجات کی پہلی قسط کے ساتھ درخواستوں کی وصولی 11 اگست سے 16 اگست تک جاری رہے گی۔ دوسرے مرحلے میں وہ غیر رجسٹرڈ عازمین حج بھی درخواستیں جمع کرا سکیں گے جو پہلے مرحلے میں شامل نہیں تھے۔

وزارت مذہبی امور کے مطابق سمندر پار پاکستانی بھی اپنے قریبی عزیز کے ذریعے نامزد بینکوں میں حج درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم افراد میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ وطن واپسی پر جمع کرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نئی حج پالیسی: قرعہ اندازی کی بجائے ‘پہلے آئیں، پہلے پائیں’ کی بنیاد پر انتخاب ہوگا، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور

ترجمان نے مزید کہاکہ جیسے ہی کوٹہ مکمل ہوگا، حج درخواستوں کی وصولی روکنے کا باضابطہ اعلان کر دیا جائےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور: حبیب جالب کی بیٹی کا ڈھابہ ہٹانے پر تنازع، انتظامیہ نے ماڈل ریڑھی دینے کی یقین دہانی کرا دی

ایشین کرکٹ کونسل الیکشن، تاریخ رقم ہو گئی، بھارت کو شکست، پاکستان نے تینوں نشستیں جیت لیں

تیزاب حملے کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے بڑا اعزاز، اہم سڑک ان کے نام سے منسوب کردی گئی

آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم کے نام پر نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی مشاورت

بھارت میں اسکول کی عمارت نہ بننے پر بچوں کا احتجاج، کلاسز میں جانے سے انکار

ویڈیو

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ، خصوصی افراد کے لیے مؤثر سہولت

میدان میں حریف کھلاڑی کو تھپڑ مارنے پر سپر اسٹار لیونل میسی پر جرمانہ عائد

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟