گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا الیکشن میں ووٹ چوری ہونے کا اعتراف، ویڈیو وائرل

بدھ 13 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ اس بار سوچ سمجھ کر ووٹ دینا، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ووٹ نہ دینا، دینا ہے تو دے دینا، پہلے بھی دیا تھا نکلا نہیں تو کیا ہوا۔

گورنر سندھ کی اس بات پر تقریب میں موجود لوگ کچھ لمحے کے لیے خاموش ہوگئے، جس پر وہ خود ہنس پڑے، اور پھر شرکاء بھی ان کے ساتھ ہنسنے لگے۔ اس پر کامران ٹیسوری نے کہا، ’اب سمجھ میں آیا‘۔

کامران ٹیسوری کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین ان پر تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔ خرم اقبال نے لکھا کہ ایک گورنر کی جانب سے عوامی مینڈیٹ کا مذاق اڑانا عوام کی توہین ہے۔

احمد وڑائچ نے کہا کہ آئینی عہدے پر بیٹھا شخص عوام کے اجتماعی شعور کا مذاق اڑا رہا ہے۔

ملیحہ ہاشمی لکھتی ہیں کہ اگر عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا بھی اور وہ ڈبوں میں نکلا ہی نہیں تو کیا ہوا؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا الیکشن دھاندلی کا سر عام اعتراف ہے۔

عامر مغل نے کہا کہ کامران ٹیسوری کا بیان ایسا ہی ہے کہ کوئی ڈاکو ڈکیتی کے شکار لوگوں کو اپنے سامنے بٹھا کر ان کے ساتھ ڈکیتی کے قصے مزے لے لے کر سناتے ہوئے ساتھ تڑیاں بھی لگائے کہ سزا کی کوشش پہلے بھی کی تھی اب بھی کر کے دیکھ لینا۔ کیا فرق پڑتا ہے۔

مہربانو قریشی نے لکھا کہ آئینی عہدے پر فائز شخص بغیر کسی ندامت کے جمہوری عمل کا مذاق اڑا رہا ہے۔ مگر عوامی مینڈیٹ چوری ہونے کا اعتراف کرنے پر دس نمبر تو بنتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں