ممبئی کے معروف ذیابطیس اسپیشلسٹ ڈاکٹر راہل باکسی کے مطابق گرمیوں میں ان کے پاس آنے والے بیشتر مریض ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ آم کھا سکتے ہیں؟ ڈاکٹر باکسی کا کہنا ہے کہ آم اپنی مٹھاس اور بے شمار اقسام کی وجہ سے بھارتی گرمیوں کا لازمی حصہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ذیابطیس کے مریض اس سے دور نہیں رہ پاتے۔
یہ بھی پڑھیں: آم، سنہری سفارتکار جو تعلقات میں مٹھاس گھولتا ہے
ڈاکٹر راہل باکسی کا کہنا ہے کہ آم کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں ذیابطیس کے مریضوں کو کنفیوژن میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ کچھ لوگ آم کو مکمل طور پر مضر صحت قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ کا یہ بھی ماننا ہے کہ آم زیادہ کھانے سے ذیابطیس کا علاج ممکن ہے۔ حقیقت ان دونوں کے بیچ کہیں موجود ہے۔
ڈاکٹر باکسی کے مطابق آم کے سیزن کے بعد اکثر مریض فالو اپ کے دوران بلند شوگر لیول کے ساتھ واپس آتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ آم کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کے باوجود حالیہ بھارتی کلینیکل ٹرائلز نے اس عام تصور کو جھٹکا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پھلوں کا بادشاہ آم مارکیٹ میں آگیا، مگر قیمت کیا ہے؟
نئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر ٹائپ ٹو ذیابطیس کے مریض روٹی یا بریڈ کے بجائے محدود مقدار میں آم استعمال کریں تو ان کی بلڈ شوگر اور میٹابولک صحت میں بہتری آسکتی ہے۔
ذیابطیس کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں۔ ٹائپ ون میں لبلبہ انسولین بنانا تقریباً بند کردیتا ہے جبکہ ٹائپ ٹو میں جسم انسولین کے اثرات کو قبول کرنے کے بجائے اس کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے بھارت سے بھیجے گئے لاکھوں ڈالر مالیت کے آم ضائع کردیے
انٹرنیشنل ڈایابیٹیز فیڈریشن کے مطابق دنیا بھر میں ذیابطیس کے 90 فیصد سے زیادہ مریض ٹائپ ٹو ذیابطیس میں مبتلا ہیں۔ یہ مرض اس وقت دنیا میں بیماریوں کے بوجھ کی 8ویں بڑی وجہ ہے اور اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ دوسری بڑی وجہ بن جائے گا۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں اس وقت تقریباً 77 ملین بالغ افراد ٹائپ 2 ذیابطیس کے شکار ہیں جبکہ قریباً 25 ملین افراد پری ڈایابیٹک ہیں اور انہیں اس مرض میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔














