کیا آم ذیابطیس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہیں؟

ہفتہ 16 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ممبئی کے معروف ذیابطیس اسپیشلسٹ ڈاکٹر راہل باکسی کے مطابق گرمیوں میں ان کے پاس آنے والے بیشتر مریض ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ آم کھا سکتے ہیں؟ ڈاکٹر باکسی کا کہنا ہے کہ آم اپنی مٹھاس اور بے شمار اقسام کی وجہ سے بھارتی گرمیوں کا لازمی حصہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ذیابطیس کے مریض اس سے دور نہیں رہ پاتے۔

یہ بھی پڑھیں: آم، سنہری سفارتکار جو تعلقات میں مٹھاس گھولتا ہے

ڈاکٹر راہل باکسی کا کہنا ہے کہ آم کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں ذیابطیس کے مریضوں کو کنفیوژن میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ کچھ لوگ آم کو مکمل طور پر مضر صحت قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ کا یہ بھی ماننا ہے کہ آم زیادہ کھانے سے ذیابطیس کا علاج ممکن ہے۔ حقیقت ان دونوں کے بیچ کہیں موجود ہے۔

ڈاکٹر باکسی کے مطابق آم کے سیزن کے بعد اکثر مریض فالو اپ کے دوران بلند شوگر لیول کے ساتھ واپس آتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ آم کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کے باوجود حالیہ بھارتی کلینیکل ٹرائلز نے اس عام تصور کو جھٹکا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پھلوں کا بادشاہ آم مارکیٹ میں آگیا، مگر قیمت کیا ہے؟

نئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر ٹائپ ٹو ذیابطیس کے مریض روٹی یا بریڈ کے بجائے محدود مقدار میں آم استعمال کریں تو ان کی بلڈ شوگر اور میٹابولک صحت میں بہتری آسکتی ہے۔

ذیابطیس کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں۔ ٹائپ ون میں لبلبہ انسولین بنانا تقریباً بند کردیتا ہے جبکہ ٹائپ ٹو میں جسم انسولین کے اثرات کو قبول کرنے کے بجائے اس کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے بھارت سے بھیجے گئے لاکھوں ڈالر مالیت کے آم ضائع کردیے

انٹرنیشنل ڈایابیٹیز فیڈریشن کے مطابق دنیا بھر میں ذیابطیس کے 90 فیصد سے زیادہ مریض ٹائپ ٹو ذیابطیس میں مبتلا ہیں۔ یہ مرض اس وقت دنیا میں بیماریوں کے بوجھ کی 8ویں بڑی وجہ ہے اور اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ دوسری بڑی وجہ بن جائے گا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں اس وقت تقریباً 77 ملین بالغ افراد ٹائپ 2 ذیابطیس کے شکار ہیں جبکہ قریباً 25 ملین افراد پری ڈایابیٹک ہیں اور انہیں اس مرض میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار