افریقی یونین نے ’نقشہ صحیح کرو‘ مہم کیوں شروع کی؟

بدھ 20 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لندن سے لاگوس تک کلاس رومز کی دیواروں پر لٹکا ہوا دنیا کا معیاری نقشہ برطانیہ کو مرکز میں بڑا اور افریقہ کو نمایاں طور پر چھوٹا دکھاتا ہے لیکن اب یہ صورتحال بدل سکتی ہے کیونکہ افریقی یونین نے ’کریکٹ دی میپ‘ یعنی ’نقشہ صحیح کرو‘ مہم کی حمایت کردی ہے۔

افریقی یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ صدیوں سے رائج مرکیٹر نقشے کو ترک کر کے ایسے نقشے اپنائے جائیں جو دنیا کے دوسرے بڑے براعظم افریقہ کو درست پیمانے پر دکھائیں، افریقی یونین کمیشن کی سلمیٰ حدادی کے مطابق یہ صرف ایک نقشہ لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ محض نقشہ نہیں ہے۔

دنیا کی سب سے طویل غلط بیانی

1569 میں فلمنش جغرافیہ دان جیرارڈس مرکیٹر نے یہ نقشہ بنایا، جو ملکوں کی شکلوں کو تو درست دکھاتا ہے لیکن زمین کے کروی ہونے کے باعث کاغذ پر کھینچتے وقت تناسب بگڑ گیا۔ اس نقشے میں قطب کے قریب واقع خطوں کو بڑا جبکہ خطِ استوا کے قریب خطوں کو چھوٹا دکھایا گیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ امیراورطاقتور خطے زیادہ بڑے اوربااثرنظرآتے ہیں، مثلاً مرکیٹر پروجیکشن میں یورپ جنوبی امریکا سے بڑا دکھائی دیتا ہے، حالانکہ یہ حقیقت میں اس کا نصف ہے، اسی طرح گرین لینڈ کو افریقہ جتنا دکھایا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گرین لینڈ افریقہ میں 14 بار سما سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ پہنچنے کے خواہشمند افریقی باشندوں کو کس عذاب کا سامنا ہے؟

’افریقہ نو فلٹر‘کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر موکی مکورا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ دنیا کی سب سے طویل عرصے پر محیط غلط بیانی اور گمراہ کن مہم ہے، جسے بس اب روک دینا چاہیے۔

افریقی یونین کی حدادی نے مزید کہا کہ مرکیٹر نقشہ افریقہ کو ’غیر اہم‘ اور ’حاشیے پر‘ ظاہر کرتا ہے اور یہ تاثر میڈیا، تعلیم اور پالیسیوں میں بھی سرایت کرتا ہے۔

اسپیک اپ افریقہ نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ مرکیٹر نقشہ افریقی عوام کی شناخت اور فخر کو متاثر کرتا ہے، خاص طور پر ان بچوں کو جو اسکول میں سب سے پہلے یہی نقشہ دیکھتے ہیں۔

نوآبادیاتی تحریف

متبادل نقشوں کی مانگ عشروں سے جاری ہے تاکہ مغربی مرکزیت پر مبنی تعلیم کو چیلنج کیا جا سکے، 2017 میں بوسٹن کے سینکڑوں اسکولوں کو ایسے نقشے دیے گئے جو مغربی دنیا کے سائز کی بگاڑ کو درست کرنے کی کوشش تھے، کئی افریقی ممالک نے اپنے نصاب میں مرکیٹر کے بجائے متبادل نقشے شامل کرنے شروع کر دیے ہیں۔

موجودہ مہم پورے براعظم میں ’ایکوئل ارتھ میپ‘ متعارف کروانے پر کام کر رہی ہے، جو ملکوں کو ان کے حقیقی سائز میں دکھاتا ہے۔ اگرچہ مرکیٹر پروجیکشن اب بھی دنیا بھر کے اسکولوں اورٹیکنالوجی کمپنیوں میں عام ہے، لیکن کچھ پیش رفت ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیں:افریقہ میں زچگی کے دوران خواتین کی اموات، اقوام متحدہ کے چونکا دینے والے اعداد و شمار

ورلڈ بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ مرکیٹر کو مرحلہ وار ختم کر رہا ہے، جبکہ گوگل میپس نے 2018 میں ڈیسک ٹاپ ورژن پر ’تھری ڈی گلوب ویو‘ متعارف کرایا۔ تاہم موبائل ایپ پر اب بھی مرکیٹر ہی ڈیفالٹ نقشہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں