صوبے میں لوگوں کو لاپتا کرنا معمول بن چکا، سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ

بدھ 20 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ ظہور شاہوانی نے صوبے کے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے لوگوں کو لاپتا کرنا معمول بن چکا ہے، حالات ابتر ہوچکے ہیں۔

کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ کے جج رہنے والے جسٹس (ر) ظہور شاہوانی نے کہا کہ صوبے کے حالات انتہائی ابتر ہوچکے ہیں اور صوبے میں لوگوں کو لاپتا کرنا معمول بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سے لاپتا رکن بلوچستان اسمبلی کا بیٹا گوادر سے بازیاب

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 4 سال سے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدلیہ کی آزادی کی بات کی لیکن آج وکلا بھی محفوظ نہیں ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ مستونگ سے ایڈووکیٹ عطا اللہ بلوچ سمیت کئی وکلا کو لاپتا کیا گیا ہے۔ اگر کسی وکیل یا شہری کے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے۔

جسٹس (ر) ظہور شاہوانی نے کہا کہ اسمبلیوں سے ایسے بل پاس ہو رہے ہیں جن کے تحت لوگوں کو 3 ماہ کے لیے لاپتا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، لیکن کسی بھی شخص کو لاپتا کرنے کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان اسمبلی: انسداد دہشتگردی ترمیمی بل منظور، لاپتا افراد کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائےگا، وزیراعلیٰ

انہوں نے بتایا کہ چند دن قبل نقاب پوش افراد نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، جب انہوں نے وارنٹ طلب کیا تو مہیا نہیں کیا گیا۔ نقاب پوش ان کے وکیل بیٹے ضمیر شاہوانی کو حراست میں لے کر ساتھ لے گئے اور رات 3 بجے صبح کے وقت رہا کردیا۔

جسٹس (ر) شاہوانی نے اعلان کیا کہ وہ اس اقدام کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کے مارشل لا کے دوران بھی حالات اتنے خراب نہیں تھے جتنے آج بلوچستان میں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کے مثبت نتائج، اڑیال کی آبادی مستحکم ہونے لگی

مائیکروسافٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی پیکیج دینے کا اعلان

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

خیبرپختونخوا پولیس کے لیے خصوصی انشورنس پلان، شہدا کے خاندانوں اور زخمی اہلکاروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

موسم سرما کی آمد، بلوچستان کے کون سے علاقے سیاحوں کے لیے پُرکشش بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں