بھارتی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2025 لوک سبھا میں پیش کر دیا، جسے حزبِ اختلاف کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جشن آزادی: مقبوضہ کشمیر میں قائداعظم، علامہ اقبال اور فیلڈ مارشل کی تصاویر والے پوسٹرز آویزاں
اس بل کے ذریعے وزرائے اعلیٰ اور وزراء کی گرفتاری اور 30 روزہ حراست کی صورت میں ان کی برطرفی کو قانونی شکل دی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام کشمیری عوام کے جمہوری حقوق سلب کرنے اور دہلی کے کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔
ترمیمی بل کی شقیں
ترمیمی بل کے مطابق اگر وزیرِ اعلیٰ یا کوئی وزیر 30 روز تک مسلسل کسی سنگین مقدمے میں گرفتار اور حراست میں رہے تو وہ خود بخود عہدے سے برطرف تصور ہوگا۔

وزیرِ اعلیٰ کو گرفتاری کے 31 ویں دن تک استعفیٰ دینا لازم ہوگا اور بصورت دیگر وہ ازخود منصب سے ہٹا دیا جائے گا۔
تاہم برطرفی کے باوجود رہائی کے بعد دوبارہ تقرری کا راستہ کھلا رہے گا۔
حزبِ اختلاف اور ماہرین کا ردعمل
اپوزیشن جماعتوں نے اس قانون سازی کو ’’غیر آئینی اور غیر جمہوری‘‘ اقدام قرار دیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم سیاسی انتقام اور من پسند گرفتاریوں کا راستہ ہموار کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کا مزاحمت کاروں کے خلاف 12 روزہ طویل آپریشن ناکام، 9 فوجی ہلاک
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے کشمیری عوام کی جمہوریت پر اعتماد مزید مجروح ہوگا اور ریاستی اسمبلی ایک بلدیاتی کمیٹی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھے گی۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ماڈل بعد میں پورے بھارت میں بھی لاگو کرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
وادی میں مزید فوجی تعیناتی
بھارتی حکومت نے اسی دوران جموں کے اضلاع ادھمپور اور کٹھوعہ میں سی آر پی ایف کی 3 نئی بٹالینز بھی تعینات کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام انسدادِ دہشتگردی کے نام پر کیا گیا ہے تاکہ فوج کو سرحدی دفاع پر مرکوز رکھا جا سکے۔

انسانی حقوق کے خدشات
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ نئی تعیناتی وادی کو مزید فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دے گی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سی آر پی ایف کو براہِ راست بھارتی وزارتِ داخلہ کے ماتحت کرنے سے دہلی کا کنٹرول اور بڑھ جائے گا۔
کشمیری عوام پہلے ہی مسلسل نظر بندیوں، کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ اقدامات سیاسی عمل کو کمزور کر کے مقامی آبادی کو مزید حاشیے پر دھکیل دیں گے۔
وسیع تر تناظر
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنے اور ’آبادیاتی انجینئرنگ‘ جیسے اقدامات کو قانونی تحفظ دینے کے لیے یہ راستہ اختیار کر رہی ہے۔

دوسری جانب کشمیری عوام کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ممکن ہے، جبکہ مزید فوجی دباؤ اور آئینی ترامیم مسئلے کو مزید پیچیدہ کر رہی ہیں۔














