بھارتی ریاست کرناٹک کے چیترادُرگا ضلع میں ایک نہایت دردناک واقعے نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پولیس تفتیش کے مطابق قتل ہونے والی 19 سالہ طالبہ وارشیتا 8 ماہ کی حاملہ تھیں، جبکہ اس قتل کا مبینہ ملزم سابق بوائے فرینڈ چیتن ہے جو کینسر کا مریض ہے۔
پولیس نے بتایا کہ وارشیتا (دوئم سال بی اے کی طالبہ) اور چیتن کی دوستی انسٹاگرام پر شروع ہوئی تھی، جہاں چیتن نے اسے نوکری دلانے کا بھی وعدہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: آٹھویں کے طالب علم کے ہاتھوں دسویں کا طالب علم قتل، قاتل کا انسٹاگرام چیٹ میں اعتراف جرم
جب چیتن کینسر کے مرض میں مبتلا ہوا تو وارشیتا نے دوری اختیار کر لی، اور اس دوران اس نے کسی دوسرے نوجوان کے ساتھ تعلقات شروع کیے؛ جس سے چیتن ناراض ہوا۔
پولیس نے مزید بتایا کہ وارشیتا کے خاندان نے جب متعلقہ معاملے کی بات چیت کرتے ہوئے چیتن سے شادی کا مطالبہ کیا، خاص طور پر حمل کی تصدیق کے بعد، تب چیتن نے فیصلہ کیا کہ وہ وارشیتا کو قتل کر دے گا۔ اس کے بعد اس نے اسے بلا کر گلا دبا دیا اور اس کے بعد لاش کو جلانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں شوہر نے بھارتی فلم’ دریشم‘ کی طرز پر بیوی کو قتل کرکے قبرستان میں دفن کردیا
وارشیتا کے جسم کا کچھ حصہ آدھا جلا ہوا پایا گیا تھا۔ چیتن نے فوری طور پر اعتراف کر لیا اور گرفتار کر دیا گیا۔
وارشیتا کے خاندان نے پولیس کی بروقت کارروائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر ہاسٹل انتظامیہ کی غفلت پر۔
واقعے کے بعد علاقے میں احتجاج بھڑک اٹھا، جہاں ہجوم نے انصاف کا مطالبہ کیا۔
مقامی حکومت نے وارشیتا کے والدین کو 5 لاکھ روپے کا معاوضہ فراہم کیا اور تحقیقات میں تیزی کا وعدہ بھی کیا۔














