وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے بیلاروس کے وزیر داخلہ ایون کبراکوو نے اپنے وفد کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ جس میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم نے بیلاروس کے وزیر داخلہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے مابین دیرینہ دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیلا روس نے اپنی فضائیہ کو پاکستان ایئر فورس سے ٹریننگ دلانے کی خواہش ظاہر کردی
انہوں نے رواں سال اپنے دورہ بیلاروس کا حوالہ دیتے ہوئے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ انہیں اس امر پر خوشی ہے کہ بیلاروس کے ساتھ پاکستانی ہنر مند افراد کو مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر اتفاق ہوا تھا اور آج اس حوالے سے باضابطہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں۔ پاکستان بیلاروس کے صدر کے جلد دورہ پاکستان کا منتظر ہے۔

بیلاروس کے وزیر داخلہ ایون کبراکوو نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے صدر لوکاشینکو کی نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔
انہوں نے کہاکہ بیلاروس پاکستان کے ساتھ زراعت، صنعت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ اپنے دورہ پاکستان کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل چوہدری سالک حسین سے ملاقاتوں کو بھی انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات میں پیش رفت کے لیے نہایت سودمند قرار دیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو بتایا کہ بیلاروس کے وزیر داخلہ اور ان کا وفد نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا بھی دورہ کر چکا ہے۔ جبکہ وزیر سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے آگاہ کیا کہ ہنر مند پاکستانیوں کو بیلاروس بھجوانے سے متعلق آج مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے ہیں، جس کے بعد یہ عمل باضابطہ طور پر شروع ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بیلاروس کا ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کو ملازمتیں دینے کا اعلان، کیا مواقع موجود ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ بیلاروس پاکستانی کارکنوں کو میڈیکل سمیت سماجی تحفظ کی سہولیات بھی فراہم کرے گا۔
ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل محمد عون چوہدری سمیت اعلیٰ سرکاری افسران بھی شریک تھے۔














