آئینی بینچ پارلیمان کی منشاء کی عکاسی کرتا ہے: جسٹس شاہد بلال حسن

بدھ 3 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کے جج جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ آئینی بینچ، آئینِ پاکستان میں 26ویں ترمیم کے تحت قائم کیا گیا جو پارلیمان کی منشاء اور مرضی کی عکاسی کرتا ہے اور عدالت کی کارکردگی میں ایک ساختی پیش رفت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام صحافیوں کی عالمی تنظیم کا خط، مسئلہ کیا ہے؟

گریز اِن لندن میں بین الاقوامی وکلا ایسوسی ایشن کے ڈنر سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بینچ آئینی تشریحات اور فیصلوں پر خصوصی توجہ کو یقینی بناتا ہے۔

عدلیہ کا آئینی کردار

جسٹس شاہد بلال حسن نے زور دیا کہ عدلیہ اپنی حدود آئین سے باہر نہیں بڑھا سکتی اور اُسے ہمیشہ اپنے آئینی کردار پر کاربند رہنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ آئین کی محافظ ہے اور اسی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیتی ہے۔

سیمینار میں شرکت

سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق، جسٹس شاہد بلال حسن نے 18 جولائی کو بین الاقوامی وکلا ایسوسی ایشن کے سالانہ سیمینار اور عشائیے میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

اس تقریب میں دنیا بھر کے نمایاں قانونی ماہرین شریک ہوئے، جن میں بالخصوص پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، برطانیہ کے ماہرینِ قانون اور سابق جج بھی شامل تھے۔

مکالمہ اور مباحثہ

یہ سیمینار عصری قانونی مسائل، عدالتی نظام کو درپیش چیلنجز اور انصاف و قانون کی بالادستی کے لیے بین الاقوامی قانونی برادری کے مشترکہ عزم پر مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔

مقدمات کے بیک لاگ کا مسئلہ

اپنے خطاب میں جسٹس شاہد بلال حسن نے سپریم کورٹ میں مقدمات کے بھاری بوجھ کا اعتراف کیا اور کہا کہ انصاف تک رسائی بروقت اور مؤثر فیصلوں کی متقاضی ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ جج صاحبان اپنے آئینی فریضے سے بخوبی آگاہ ہیں اور اسے محنت، غیر جانبداری اور مؤثر انداز سے ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

انتظامی اصلاحات کی ضرورت

انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے منظم اقدامات پر زور دیا، جن میں کیس مینجمنٹ میں بہتری، سماعتوں اور نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال، اور عدالتی وقت کی بہتر تقسیم شامل ہیں تاکہ اہم آئینی معاملات کو ترجیح دی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ بار کی عدالتی اصلاحات کے لیے تجاویز کیا ہیں؟

 ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کے بوجھ کو کم کرنا صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک آئینی تقاضا بھی ہے، جو عدلیہ پر عوامی اعتماد اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں