ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ یوکرین اور غزہ کے معاملے پر مغرب کے دہرے معیار اس کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انہیں خوشی ہے کہ دیگر یورپی ممالک بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں اسپین کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی وزیراعظم کا نیتن یاہو پر غزہ کے انسانی بحران کا الزام اور شدید تنقید
ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ یورپی یونین کے اندر ممالک اس بات پر منقسم ہیں کہ اسرائیل پر کس طرح اثر انداز ہونا ہے۔ ’میرے نزدیک یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے، اور اگر ہم یوکرین جیسے دوسرے بحرانوں میں اپنی ساکھ قائم رکھنا چاہتے ہیں تو اس دہری پالیسی کے ساتھ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے۔‘
انہوں نے کہاکہ دنیا یورپی یونین اور مغربی معاشرے کو دیکھ رہی ہے اور یہ سوال کررہی ہے کہ جب معاملہ یوکرین کا ہوتا ہے اور جب بات غزہ کی آتی ہے تو آپ دہرا معیار کیوں اپناتے ہیں؟
ہسپانوی وزیراعظم نے یورپ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے، جن میں مالیاتی اقدامات بھی شامل ہوں۔
انہوں نے کہاکہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بلاشبہ اکیسویں صدی کے بین الاقوامی تعلقات کے سب سے تاریک ابواب میں سے ایک ہے۔ اس حوالے سے اسپین نے یورپی یونین اور عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ: پاکستان کا غزہ میں انسانی بحران پر شدید ردعمل، فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی کا مطالبہ
ان کے مطابق یورپی یونین کے اندر ہم نے اب تک یہی مؤقف اپنایا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ موجود اسٹریٹجک شراکت داری کو معطل کیا جائے۔














