اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کی صورتحال پر ہونے والے خصوصی اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے غزہ میں جاری انسانی بحران کو ’غیر انسانی اور ناقابل تصور سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ غزہ مکمل تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ ایک انسان ساختہ تباہی ہے جہاں موت صرف بمباری سے نہیں بلکہ زندگی گزارنے کے بنیادی حالات کے منظم خاتمے سے بھی ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی ہر تجویز کو رد کیا جائے، اسحاق ڈار کا او آئی سی اجلاس سے خطاب
انہوں نے بتایا کہ اب تک 58,000 سے زائد افراد شہید اور 138,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ کئی علاقے مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں، جب کہ خوراک اور دوا کی قلت شدید ہو چکی ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے 12 جولائی کو پیش آنے والے واقعے کی مثال دی جہاں غزہ شہر میں امداد کے انتظار میں کھڑے شہریوں پر فائرنگ کی گئی، جس میں درجنوں افراد شہید ہوئے۔ ’لوگ بھوک سے بلک رہے تھے، لیکن ان کے حصے میں موت آئی۔‘
ایک دل دہلا دینے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے 7 ماہ کی بچی ’سلام‘ کی موت کا تذکرہ کیا، جو بھوک اور غذائی قلت کے باعث اپنی ماں کی گود میں دم توڑ گئی۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmed, Permanent Representative of Pakistan to the UN
At the UN Security Council Briefing on the Humanitarian Situation in Gaza
(16 July 2025)
***
We thank Under-Secretary-General, Tom Fletcher and Executive Director Russell, for the… pic.twitter.com/nApkxICk9m— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 17, 2025
انہوں نے انسانی امدادی نظام کی موجودہ صورت حال پر 5 اہم نکات اٹھائے:
موجودہ امدادی نظام ناکام ہو چکا ہے اور جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ شیر خوار بچوں کے لیے دودھ جیسی بنیادی اشیاء کی قلت ناقابل قبول ہے۔ ایندھن، طبی سامان اور پناہ گاہوں کی شدید کمی سنگین انسانی المیہ ہے۔ غیر جانبدار انسانی امداد کو عسکریت زدہ طریقے سے چلانا خطرناک نظیر قائم کر رہا ہے۔ یہ بحران حادثاتی نہیں بلکہ اسرائیل کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جسے روکا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے غزہ کی تعمیر نو سے متعلق مصر کی تجویز پر پاکستان کا خیر مقدم
پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کو یقینی بنائے۔ غزہ پر سے ناکہ بندی ہٹائے اور اقوام متحدہ کے اداروں، خاص طور پر UNRWA کے ذریعے امداد کی آزادانہ رسائی بحال کرے۔ فلسطینی قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنائے۔
جبری نقل مکانی اور غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرے۔ اور دو ریاستی حل کے تحت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
آخر میں سفیر نے کہا کہ دنیا تماشائی نہیں بن سکتی۔ ہمیں ہر جان کے پیچھے چھپی کہانی کو محسوس کرنا ہوگا۔ تاریخ ہمیں ہمارے عمل سے پرکھے گی — خاموشی سے نہیں۔‘













