کم جونگ ان کی بیٹی کا تاریخی انٹرنیشنل ڈیبیو، چین کی فوجی پریڈ میں شرکت

بدھ 3 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان اپنی بیٹی اور ممکنہ جانشین کم جو اے کے ہمراہ بیجنگ پہنچے جہاں انہوں نے شاندار فوجی پریڈ میں شرکت کی۔ سرکاری میڈیا کی جاری کردہ تصاویر میں کم جو اے کو پہلی مرتبہ کسی بین الاقوامی تقریب میں دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: روس کو ہتھیاروں کی فراہمی: صدر کم جونگ ان کا رواں ماہ روس کا دورہ متوقع

کم جو اے اب تک اپنے والد کے ساتھ متعدد ہتھیاروں کے تجربات میں شریک ہوچکی ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق چین میں ان کی موجودگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کم خاندان کی جانشینی کے حوالے سے انہیں اہم مقام حاصل ہے۔

کم جو اے کو پہلی بار 2022 میں دنیا کے سامنے متعارف کرایا گیا تھا جب وہ اپنے والد کے ساتھ ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے میں شریک ہوئیں۔ تاہم سابق امریکی باسکٹ بال اسٹار ڈینس روڈمین نے سب سے پہلے 2013 میں ان کے وجود سے دنیا کو آگاہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چین، روس اور شمالی کوریا امریکا کے خلاف سازش کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا الزام

 روڈمین کے مطابق پیونگ یانگ کے دورے کے دوران کم جونگ ان نے اپنی اہلیہ ری سول جو اور ننھی بیٹی سے متعارف کراتے ہوئے کہا تھا: ’یہ میری بیٹی ہے‘۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کبھی ان کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم جنوبی کوریائی انٹیلیجنس کے مطابق یہ کم جو اے ہیں، جو کم جونگ ان اور ان کی اہلیہ ری سول جو کی بیٹی ہیں، جن کی شادی 2009 میں ہوئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’صہیونی لابی سرگرم ہے‘، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کی کوریج پر سخت ردعمل

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کا مضمون لازمی قرار دینے کا فیصلہ

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں