فلور ملز کی رجسٹریشن سے متعلق ایس آر او کے اجرا کے معاملے پر سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف آرٹیکل 199 کے تحت رٹ دائر نہیں کی جاسکتی۔
یاد رہے کہ میں سنہ 2013 میں فلور ملز کی رجسٹریشن کے لیے ایس آر او جاری کیا گیا تھا جس کے خلاف فلور ملز نے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹس سے رجو ع کیا تھا۔ اس حوالے سے سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے کی۔
ہائیکورٹس نے قرار دیا تھا کہ ایس آر او کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا لہٰذا سپریم کورٹ نے بھی ہائیکورٹس کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ بار کی عدالتی اصلاحات کے لیے تجاویز کیا ہیں؟
حافظ احسان کھوکھر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں کہہ چکی ہے ایس آر او کو ہائیکورٹ میں رٹ اختیار سماعت کے تحت چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
سنہ 2013 میں فلور ملز کی رجسٹریشن کے لیے ایس آر او جاری کیا گیا تھا۔ ایس آر او کے اجرا کے کے خلاف فلور ملز نے آرٹیکل 199کے تحت ہائیکورٹس سے رجو ع کیا تھا۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں مفاہمت کے سوا کوئی راستہ نہیں، صدر سپریم کورٹ بار
عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹس نے قرار دیا ایس آر او کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا لہٰذا سپریم کورٹ نے بھی ہائیکورٹس کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔













