پاکستان میں قدرتی آفات یا انسانی غفلت؟

ہفتہ 6 ستمبر 2025
author image

اظہر لغاری

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ایک بار پھر شدید ترین قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہے۔ کہیں موسلا دھار بارشوں نے بستیاں اجاڑ دیں تو کہیں زمین کھسکنے سے پوری کی پوری آبادی مٹی کے تودوں تلے دب گئی۔

شمالی علاقوں میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، وادیوں میں کلاؤڈ برسٹ قیامت ڈھا رہے ہیں اور جنوبی علاقوں میں سیلاب نے کھڑی فصلیں تباہ کر دی ہیں۔ یہ سب محض قدرتی حادثات نہیں بلکہ ایک سخت انتباہ ہے کہ کلائمیٹ چینج اب کتابوں کی تھیوری نہیں رہا بلکہ پاکستان کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔

ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں پر موجود ہزاروں گلیشیئر ہماری زندگی کی شہ رگ ہیں۔ انہی سے دریاؤں میں پانی آتا ہے، انہی سے کھیت سرسبز رہتے ہیں اور انہی پر ہماری زراعت اور معیشت کھڑی ہے۔

لیکن افسوس کہ یہی گلیشیئر اب خطرناک حد تک تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر یہی رفتار رہی تو آنے والے برسوں میں ہمیں پانی کی قلت اور تباہ کن فلش فلڈز دونوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کلاؤڈ برسٹ میں چند منٹوں میں مہینوں جتنی بارش برس پڑتی ہے اور یہ پاکستان کے لیے نیا مگر جان لیوا چیلنج ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقے اس تباہی سے گزر چکے ہیں۔ کچے مکانات منٹوں میں بہہ جاتے ہیں، سڑکیں، پل اور رابطہ ذرائع مٹی کے ڈھیر بن جاتے ہیں۔ یہ سب محض فطری مظاہر نہیں بلکہ ہماری ناقص منصوبہ بندی اور ماحولیاتی بے حسی کا نتیجہ بھی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا کہ ہم نے اپنے جنگلات کا کیا حال کیا؟ دریاؤں کے کناروں پر بے ہنگم تعمیرات کیوں کیں؟ بارش کے پانی کے نکاس کے لیے شہروں میں آج تک مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟ زمین کھسکنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا بڑا سبب بے دریغ درختوں کی کٹائی اور پہاڑوں پر غیر منصوبہ بند آبادیاں ہیں۔

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ مگر ہم نے نہ اپنی پالیسیوں کو بدلا اور نہ ہی اپنی عادات کو۔ آج بھی ہم ماحول کو برباد کرنے والی توانائی پر انحصار کر رہے ہیں۔

آج بھی ہم پلاسٹک کے پہاڑ کھڑے کر رہے ہیں اور آج بھی ہم شجر کاری کو دکھاوا سمجھ کر چند فوٹو سیشنز پر اکتفا کرتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اب ہم جاگ جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ کلائمیٹ ایمرجنسی کا اعلان کرے، قومی سطح پر موسمیاتی پالیسی مرتب کرے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔

بڑے ڈیمز کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیمز اور واٹر ریچارجنگ سسٹمز کو ترجیح دی جائے۔ شہروں میں بارش کے پانی کے ذخیرے اور نکاسی کا نظام جدید خطوط پر استوار ہو۔ اسکول کی سطح پر بچوں کو ماحولیات کی تعلیم دی جائے تاکہ آئندہ نسلیں وہ غلطیاں نہ دہرا سکیں جو ہم نے کیں۔

اگر ہم نے اب بھی اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو یہ طوفان، یہ سیلاب، یہ لینڈ سلائیڈنگ اور یہ کلاؤڈ برسٹس ہمارے شہروں، ہماری معیشت اور ہماری زندگیوں کو بہا لے جائیں گے۔ قدرت کی یہ پکار ہے اور اس بار خاموشی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہوگی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد پولیس کارروائی کے دوران فائرنگ، ڈکیت گینگز کے دو ارکان زخمی، سرچ آپریشن جاری

وزیراعظم شہباز شریف کا پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن پر امن، رواداری اور انسانی حقوق کے فروغ کا عزم

پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کو آئی سی سی اجلاس میں شرکت کی دعوت

مزید10کیسز کا سامنا، عبایا میں ملبوس انمول پنکی کو سٹی کورٹ پہنچا دیا گیا

حکومت کا بجٹ میں اضافی محصولات اور پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا فیصلہ، عالمی مالیاتی ادارے سے معاہدہ

ویڈیو

خیبر پختونخوا حکومت کے ترقیاتی دعوؤں پر عوام کی رائے

بھارت میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی آوازیں: یہ تبدیلی کیوں اور کیسے آئی؟

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

کالم / تجزیہ

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟