وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک بھر میں زرعی و موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے ہزاروں ایکڑ اراضی زیر آب آ گئی ہے اور چاول، مکئی، گنا، کپاس سمیت دیگر فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تنہا اس سے نمٹنے کے قابل نہیں اور فوری طور پر جامع روڈ میپ تیار کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بتایا کہ انہوں نے چین کے ساتھ ساڑھے 8 ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبے اور امریکا کے ساتھ کان کنی و معدنیات کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کے لیے ایم او یوز پر دستخط کیے ہیں۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر، کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا ملتان اور جلال پور پیروالا کا فضائی دورہ، سیلابی صورتحال کا جائزہ
انہوں نے دہشتگردی کے خاتمے کو قومی و ملی فریضہ قرار دیتے ہوئے پاک فوج کے بہادر افسر میجر عدنان اسلم کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ شہدا کے اہلخانہ کے جذبات پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر شہدا کی تضحیک کرنے والوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ فتنہ الخوارج کی بیخ کنی لازمی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین کے دورے کے دوران سی پیک فیز ٹو، زراعت، بی ٹو بی سرمایہ کاری، سپیشل اکنامک زونز اور قراقرم ہائی وے کے فنانشل ماڈلز پر پیشرفت ہوئی، جس میں 85 فیصد چینی اور 15 فیصد پاکستانی سرمایہ کاری ہوگی۔
مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ کا اجلاس، ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوری
امریکی کمپنیوں کے ساتھ منرلز اور جیمز اینڈ اسٹونز کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے ایم او یوز بھی طے پا گئے ہیں۔
انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی اقدامات، نقصانات کا تخمینہ اور زرعی نقصان کی تفصیلات تیار کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ وزیراعظم نے وفاق اور صوبوں کو مشترکہ طور پر صورتحال سے نمٹنے اور نقصانات کا ازالہ کرنے کی ہدایت دی۔
وزیراعظم نے اسرائیل کے قطر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں بے گناہ شہریوں کا قتل انسانی تاریخ میں ایک شنیع مثال ہے اور پاکستان قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: سیلاب کی تازہ ترین صورت حال: بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ زرعی و موسمیاتی ایمرجنسی کے سلسلے میں احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں متعلقہ وزراء، سیکرٹریز اور چیف سیکرٹریز شامل ہوں گے، جبکہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ افسران شریک ہوں گے تاکہ ملک بھر میں امدادی اقدامات مربوط انداز میں کیے جا سکیں۔














