خیبرپختونخوا: ٹیچنگ لائسنس متعارف کرنے کا فیصلہ، طریقہ کار کیا ہوگا؟

جمعہ 12 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں تدریس کے لیے پہلی بار باقاعدہ لائسنس متعارف کرانے جا رہی ہے جس کے بغیر ٹیچنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی: خود قانون منظور کرکے اسی کے خلاف قرارداد بھی منظور، جانیے دلچسپ کہانی

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا نے صوبے میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کے لیے باضابطہ طور پر لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

محکمہ تعلیم کی دستاویزات کے مطابق صوبے میں کوئی بھی شخص بغیر لائسنس کے تدریس کے شعبے میں خدمات انجام نہیں دے سکے گا۔ صرف وہی اساتذہ پڑھانے کے مجاز ہوں گے جو رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ ہوں گے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق اس کے لیے ایک ریگولیٹری باڈی قائم کی جائے گی جس کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کی ذمہ داری اساتذہ کی رجسٹریشن، لائسنس کے اجرا اور اس کی نگرانی شامل ہوگی۔

یہ ریگولیٹری باڈی ٹیچنگ لائسنس کے حوالے سے قواعد و ضوابط (ٹی او آرز) تیار کرے گی اور اسی بنیاد پر اساتذہ کو لائسنس جاری کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا: میٹرک امتحانات میں ناقص نتائج پر 15 اسکول پرنسپل معطل

دستاویزات کے مطابق صرف وہی اساتذہ لائسنس کے اہل ہوں گے جو معیار پر پورا اتریں گے جبکہ بغیر لائسنس کسی کو تدریسی عمل کی اجازت نہیں ہوگی۔ ریگولیٹری باڈی کے پاس یہ مکمل اختیار ہوگا کہ کس کو لائسنس جاری کیا جائے اور کس کو مسترد کیا جائے۔

اساتذہ کے لائسنس کی تجدید ان کی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔ اچھی اور تسلی بخش کارکردگی کے حامل اساتذہ کو ہی لائسنس کی تجدید کروانے کا حق ملے گا۔

محکمہ تعلیم کی دستاویزات کے مطابق ریگولیٹری باڈی کے قیام اور اس کے معاملات چلانے پر 200 ملین روپے لاگت آئے گی۔

محکمہ تعلیم کے مطابق اس عمل سے اساتذہ پر کڑی نظر ہوگی اور کسی قسم کے نفسیاتی یا اخلاقی مسائل کی صورت میں لائسنس منسوخ کیا جائے گا۔

تعلیم پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے خطیر فنڈز خرچ کر رہی ہے لیکن سرکاری اسکولوں میں بہتری نظر نہیں آرہی۔

مزید پڑھیں: پنجاب کا مجوزہ نیا بلدیاتی نظام کیا خیبرپختونخوا ماڈل سے متاثر ہے؟

کاشان اعوان پشاور کے صحافی ہیں اور ایجوکیشن بیٹ کور کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اساتذہ لائسنس سے فنڈز اور وقت کا ضیاع ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت نے سرکاری اسکولوں میں بھرتیاں کیں، اساتذہ پر چیک اینڈ بیلنس کے لیے مانیٹرنگ کا نظام لایا گیا جس کے بعد اسکول لیڈرز بھرتی کیے گئے لیکن اس کے باوجود بھی سرکاری اسکولوں کے نتائج میں بہتری نہیں آئی۔

کاشان اعوان نے بتایا کہ اتنے اقدامات کے بعد اب حکومت اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنے جا رہی ہے جو حکومتی اقدامات اور کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ نے سرکاری اسکول نجی شعبے کو دینے تھے تو اتنے خرچے اور اقدامات کی کیا ضرورت تھی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سیلاب سے 34 اسکول تباہ، 648 جزوی متاثر، حکومت بحالی کے لیے کیا کررہی ہے؟

کاشان اعوان نے بتایا کہ حکومت ہر سال کچھ نیا تجربہ کر رہی ہے اور اساتذہ لائسنس کا معاملہ بھی اسی کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم