ایک اعلیٰ امریکی ایلچی نے کہا ہے کہ شام اور اسرائیل تنازع کے حل کے قریب ہیں، جس کے تحت اسرائیل اپنے حملے روک دے گا جبکہ شام سرحد کے قریب کوئی بھاری مشینری یا فوجی ساز و سامان منتقل نہ کرنے پر رضامند ہوگا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیراک نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے وسیع تر سیکیورٹی ڈیل کی جانب پہلا قدم ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی فوج کا شام کے شمالی علاقے قنیطرہ کے 2 قصبوں پر دھاوا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے شام اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم بیراک کے مطابق نئے یہودی سال روش ہشنا کی تعطیلات کے باعث عمل سست روی کا شکار ہے اور ابھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے سبھی فریق نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شام اور اسرائیل دہائیوں سے دشمن چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے والے شامی صدر بشار الاسد کی برطرفی کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات اور گہرا عدم اعتماد برقرار ہے۔
اسرائیل نے شام کی نئی اسلام پسند قیادت پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور صدر احمد الشراع کے ماضی میں جہادی گروہوں سے تعلقات کی نشاندہی کرتے ہوئے واشنگٹن پر دباؤ ڈالا ہے کہ شام کو کمزور اور غیرمرکزی حکومت کے ساتھ رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: شام کی تقسیم ناقابلِ قبول، اسرائیل دہشتگرد ریاست ہے، رجب طیب اردوان
گزشتہ سال 8 دسمبر کو باغیوں کی کامیاب کارروائی کے بعد جب بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا گیا، اسرائیل نے 1974 کے جنگ بندی معاہدے کو منسوخ کر دیا اور دمشق سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے تک فوج بھیج دی۔ تب سے اسرائیل شام میں ایک ہزار سے زائد فضائی حملے اور 400 سے زیادہ زمینی کارروائیاں کر چکا ہے۔
گزشتہ ہفتے شامی صدر احمد الشراع نے کہا کہ اسرائیل بار بار حملے کر رہا ہے اور معاہدے کی رفتار جان بوجھ کر سست کر رہا ہے۔ نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل سے خوفزدہ ہیں، ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں۔














