اسلام آباد: موبائل ٹاور پر چڑھے نوجوان کا آرمی چیف سے ملاقات کا مطالبہ اور خودکشی کی دھمکی

بدھ 24 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے کشمیر چوک میں ایک نوجوان، جو اپنے آپ کو محسن بتا رہا ہے۔ ایک موبائل ٹاور پر چڑھ کر کہہ رہا ہے کہ وہ صرف فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات ہونے کی صورت میں نیچے اترے گا ورنہ خودکشی کر لے گا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، انتظامیہ، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس موقع پر پہنچ چکی ہیں اور صورتحال پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔ متعلقہ ادارے منظرِ عام پر موجود ہیں اور بچاؤ کے اقدامات اور نیچے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر میں ہر 100 میں سے ایک موت خودکشی سے ہوتی ہے، ڈبلیو ایچ او

کشمیر چوک کے اطراف کا ٹریفک شدید متاثر ہے۔ پولیس اور انتظامیہ نے علاقے کا اطرافی راستوں پر کنٹرول سخت کر دیا ہے اور عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ متبادل راستوں کا استعمال کریں اور موقع پر رش نہ کریں تاکہ ایمرجنسی ٹیمیں بلا رکاوٹ کام کر سکیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فوکَس فی الحال نوجوان کی جان کی حفاظت اور معاملے کا پُرامن حل نکالنا ہے۔ تاکہ متاثرہ فرد کو نفسیاتی مدد دی جا سکے اور اسے محفوظ طریقے سے ٹاور سے نیچے لایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘