جب تک فلسطینی خود فیصلہ نہ کریں کوئی حل مسلط نہیں کیا جا سکتا، مولانا فضل الرحمان

منگل 30 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جب تک دو ریاستی حل کے حوالے سے فلسطینی خود کوئی فیصلہ نہیں کرلیتے، اس وقت تک ان پر کوئی بھی حل زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

جامعہ اشرفیہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کو مغرب کا ’ناجائز بچہ‘ قرار دیا تھا، اور ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ بندی معاہدہ، حماس کا نیا مطالبہ سامنے آگیا

انہوں نے کہاکہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا اعلامیہ اسرائیل کی توسیع کا فارمولا تو ہوسکتا ہے لیکن فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے یا بیت المقدس کی آزادی کا فارمولا نہیں ہوسکتا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ  وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے سابقہ اور حالیہ بیانات پر خود ہی غور کرلیں کہ ان میں کتنا تضاد ہے۔

انہوں نے کہاکہ ‏حماس عوام کی ایک منتخب جماعت ہے لہٰذا حماس کو نظرانداز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اُن پر جبراً کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

’امریکا نے اپنی تمام گفتگو اور بیانیہ میں حماس کو لاتعلق کردیا ہے‘

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ‏اس وقت امریکا نے اپنی تمام گفتگو اور بیانیہ میں حماس کو لاتعلق کردیا ہے، جبکہ اصل فریق ہی حماس ہے۔ حماس کو اصل فریق تسلیم کیے بغیر کبھی بھی فلسطین کا مسئلہ حل نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہاکہ ‏تعجب ہے امریکا پر کہ کس ڈھٹائی کے ساتھ اس مجرم نیتن یاہو کی پشت پناہی کررہا ہے۔ مجرم کی پشت پناہی پر آدمی خود اُس جرم میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ حالانکہ عالمی عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم کو مجرم قرار دیا ہے۔

’اسرائیل اور فلسطین ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم نہیں کررہے‘

سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ‏اسرائیل فلسطین کا وجود تسلیم نہیں کرتا اور فلسطین اسرائیل کا وجود تسلیم نہیں کررہا۔ ایسے میں دو ریاستی حل کسی کا مشورہ خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ فسلطین پر اپنی خواہش زبردستی تھونپے۔

مولانا فضل الرحمان نے اُن ممالک کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کے لیے منصوبہ پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطین سے متعلق پاکستان کی پالیسی واضح، غزہ امن منصوبے پر سیاست نہ کی جائے، اسحاق ڈار

دوسری جانب آج نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنی حالیہ تقریر میں دو ریاستی حل پر پاکستان کے واضح مؤقف کو دہرایا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کچھ حلقے فلسطین امن منصوبے پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں۔ سیاست کرنے والے کیا چاہتے ہیں کہ فلسطین میں لوگ مرتے رہیں؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار