فرانسیسی سوشل میڈیا اسٹار کو لوگوں کو سرنجیں گھونپتے پھرنے پر جیل کی ہوا کھانی پڑگئی

منگل 7 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پیرس کی سڑکوں پر لوگوں کو مذاق کے طور پر سرنج سے ڈرانے اور اس کی ویڈیوز بنانے پر 6 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: متنازعہ پرینک ویڈیو بنانے پر معروف ٹک ٹاکر کو پابندی کا سامنا

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امین موجیتو کے نام سے مشہور اس شخص کا اصل نام ایلان ایم. ہے۔ اس نے ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں جن میں وہ راہگیروں کو خالی سرنج سے یوں ظاہر کرتا کہ جیسے وہ انہیں انجیکشن لگا رہا ہو اور وہ بھی ایسے وقت میں جب حقیقی سرنج حملوں کا خوف فرانس میں عروج پر تھا۔

عدالت میں پیشی کے دوران 27 سالہ ایلان نے کہا کہ میں نے صرف دوسروں کی نقل کی۔

سوشل میڈیا اسٹار نے کہا کہ میں نے بہت بری سوچ اپنائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اسپین اور پرتگال میں ایسی ویڈیوز دیکھیں اور ان کی نقل کی لیکن میں نے نہیں سوچا کہ اس سے کسی کو نقصان ہو سکتا ہے۔

ایلان پر ایسے ہتھیار کے ساتھ تشدد کا الزام لگا جو کسی جسمانی معذوری کا باعث تو نہیں بنا مگر پھر بھی متاثرہ افراد پر شدید نفسیاتی اثرات چھوڑ گیا۔

متاثرین کو اسپتال لے جانا پڑا

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ ویڈیوز میں اصل انجیکشن نہیں لگایا گیا تھا (کیونکہ سرنج پر حفاظتی ڈھکن موجود تھا) لیکن پھر بھی یہ عمل اتنا خوفناک اور گمراہ کن تھا کہ کئی متاثرین کو نفسیاتی معائنے کے لیے اسپتال جانا پڑا۔

مزید پڑھیے: ’اگر سیکیورٹی گارڈ گولی چلا دیتا تو کیا ہوتا‘، نوجوانوں کی پرینک ویڈیو پر صارفین برہم

ایک متاثرہ فرد نے عدالت کو بتایا کہ مجھے ایسا لگا جیسے مجھے کسی وائرس سے متاثر کر دیا گیا ہو اور وہ ایک خوفناک خواب جیسا تجربہ تھا۔

عدالت کا سخت مؤقف

اگرچہ ملزم کے وکیل نے رحم کی درخواست کی لیکن جج نے کہا کہ اس قسم کی حرکتیں عوام میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

جج کے مطابق یہ مذاق نہ صرف غیر ذمہ دارانہ تھا بلکہ دوسروں کو ایسے حملے کرنے کی ترغیب دینے کے مترادف بھی ہو سکتا ہے۔

سزا کی تفصیل

عدالت نے امین موجیتو کو 12 ماہ قید کی سزا سنائی جس میں 6 ماہ جیل میں گزارنا ہوں گے جبکہ باقی 6 ماہ معطل کر دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی اداکارہ ودیا بالن کا انگلش نہ بول سکنے کا پرینک کیسے ہوا ناکام؟

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی خواہش میں بعض افراد ایسے خطرناک مذاق کر بیٹھتے ہیں جو دوسروں کی زندگی، صحت اور ذہنی سکون کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ اس کیس نے واضح کر دیا ہے کہ صرف مذاق کہہ کر کسی بھی غیر قانونی یا خوف پھیلانے والے عمل کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا