وزارتِ بحری امور کا سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے 9 کروڑ روپے کا منصوبہ

جمعرات 9 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے 9 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر کے مطابق جھینگا مچھلی کے جالوں میں پھنسنے والے کچھوؤں کو بچانے کے لیے جدید حفاظتی آلات نصب کیے جائیں گے، جو ماہی گیروں کو بلا معاوضہ فراہم کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں:پاکستانی ساحل پر نایاب کچھوے زہریلے صنعتی فضلے کا شکار، ذمہ دار کمپنیوں پر جرمانہ

جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ منصوبہ سمندری حیاتیات کے تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ان کے مطابق اس اقدام سے جھینگا برآمدات میں 3 گنا اضافہ متوقع ہے، جو اس وقت سالانہ قریباً 100 ملین ڈالر ہیں۔

مزید پڑھیں: شرارتی کچھوے نے لندن کے فلیٹ میں آگ لگادی، فائر بریگیڈ کی دوڑیں

انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے سے پاکستان کی مصنوعات کو امریکی، یورپی اور خلیجی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ پائیدار ماہی گیری کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے پاکستان کی سمندری مصنوعات کی عالمی ساکھ میں مزید بہتری آئے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

          کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

64 سال کی عمر میں بھی ٹام کروز اتنے فِٹ کیسے ہیں؟ اداکار نے اپنی فٹنس کا راز بتا دیا

امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملے

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

شمالی پہاڑی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب کا خدشہ، متعدد سڑکیں بند

ویڈیو

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

کالم / تجزیہ

          کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی