سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب، سوشل میڈیا پر جتنے منہ اتنی باتیں

پیر 13 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا اسمبلی نے تحریک انصاف کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ منتخب کر لیا ہے۔ سہیل آفریدی نے 90 ووٹ حاصل کیے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی کی کارروائِی کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کا اعلان کیا ہے۔ اور سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اسمبلی میں ایک پرجوش تقریر میں عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ ’نہیں مروں گا، اب کسی جنگ میں یہ سوچ لیا، میں اب کی بار عشق عمران میں مارا جاؤں گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی 90 ووٹ لیکر منتخب، ہمارے ہوتے ہوئے کوئی ملٹری آپریشن نہیں کر پائے گا، نومنتخب وزیراعلیٰ کا پہلا خطاب

سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر سوشل میڈیا صارفین بھی اس پر ردعمل دیتے نظر آتے ہیں۔ مطیع اللہ جان نے لکھا کہ سہیل آفریدی کا 90 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے بطور وزیر اعلی خیبر پختونخواہ انتخاب کسی فردِ واحد کی نہیں مگر جمہوریت اور سیاسی عمل کی کامیابی ہے۔ اس کے باوجود ایک مضبوط پیغام یہ بھی ہے کہ کسی فرد کو قید رکھا جا سکتا ہے مگر سوچ کو نہیں۔

سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ نامزد کیے جانے پر پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور عمران خان کے سابق میڈیا ایڈوائزر فیاض الحسن چوہان نے کہا تھا کہ اگر سہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے تو پوری قوم سے معافی مانگوں گا، ان کی یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مہوش قمس نے سوال کیا کہ سہیل آفریدی  تو وزیر اعلیٰ بن گئے، کیا فیاض الحسن چوہان صاحب قوم سے معافی مانگیں گے؟

ثاقب بشیر نے کہا کہ جیل میں بیٹھے شخص نے نظام کو ایک نکتے پر شکست دے دی۔ اگر وفاقی حکومت کی جانب سے کھل کر مخالفت نا کی جاتی تو یہ تبدیلی روٹین کی ہوتی جب یہ کہا گیا وفاقی وزراء کی جانب سے کہ ہم نہیں بننے دیں گے اس کے بعد سہیل خان آفریدی کا وزیراعلی بننا نظام کے لیے شکست ہے۔

وجاہت سمیع نے نجم سیٹھی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان نے جیل سے ہی پوری بساط پلٹ دی ہے، ایک خطرناک حد تک ذہین چال چلی ہے۔ سہیل اَفریدی کا انتخاب سیاسی شطرنج کی ماسٹر اسٹروک ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ نے لکھا کہ عمران خان جسے بھی وزیراعلیٰ لگاتا ہے وہ میڈل کلاس ہوتا ہے مگر جب اس کی چھٹی ہوتی ہے تو وہ ایلیٹ کلاس بن چکا ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی والے اس کے آنے اور جانے دونوں پر جشن مناتے ہیں۔ کمال لوگ ہیں یہ۔

مونس الٰہی نے لکھا کہ خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلٰی سہیل آفریدی کی کامیابی آمریت کے خلاف جمہوریت کی شاندار کامیابی ہے۔ اس وزیراعلٰی کا انتخاب کسی پرچی کا نہیں عوام کی حمایت اورعمران خان کے نوجوان اور حقیقی گراس روٹس لیڈرشپ میں اعتماد کا نتیجہ ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ سہیل آفریدی کے انتخاب کا مطلب عمران خان کی جلد رہائی ہے۔ اس لیے شہباز گل کے مارشل لاء لگنے کے خدشات درست معلوم ہوتے ہیں۔

احمد وڑائچ نے لکھا کہ ’ہم وزیراعلٰی نہیں بننے دیں گے‘ والے گینگ کا اب کیا ہو گا۔

سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ فوجی آپریشنز کسی مسئلے کا حل نہیں، عمران خان آپریشن کے خلاف ہیں، ہمارے ہوتے ہوئے کوئی ملٹری آپریشن نہیں کر پائے گا، آج تک فیصلے بند کمروں میں ہوئے اس لیے حالات ٹھیک نہیں، حالات میں بہتری کے لیے مشران کو اعتماد میں لینا ہوگا اور افغان پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی، عمران خان کے دور میں افغانستان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں رہا، افغانوں کو 40 سال بعد دھکے دے کر نکال رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘