کراچی میں افغان بستی کو 40 سال بعد مسمار کرنے کا آپریشن شروع

بدھ 15 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں قائم افغان بستی کو 40 برس بعد مسمار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے خالی گھروں پر قبضے کی کوششوں کو روکنے کے لیے اس آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رینجرز، پولیس، ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) اور دیگر ادارے مشترکہ کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ بھاری مشینری کی مدد سے گھروں کو گرایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سرحدی کشیدگی میں کمی کے بعد بابِ دوستی جزوی طور پر فعال، افغان مہاجرین کی واپسی دوبارہ شروع

رینجرز نے علاقے کے تمام داخلی و خارجی راستے بند کر دیے ہیں، اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے افغان کیمپ جانے والے راستوں پر بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے بتایا کہ افغان بستی میں ماضی میں تقریباً 30 ہزار افغان باشندے مقیم تھے جنہیں 3 مراحل میں منتقل کیا گیا۔ تاہم، اب بھی تقریباً 2 ہزار افراد علاقے میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق، کچھ خالی گھروں پر قبضے کی اطلاعات موصول ہوئیں جس کے باعث فوری کارروائی ناگزیر تھی۔

عرفان بلوچ کا کہنا تھا کہ زمین کو مکمل طور پر خالی کرا کر ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے کر دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ، عوام کو جدید سہولتیں فراہم کریں گے، شزا فاطمہ

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں