سرحدی کشیدگی میں کمی کے بعد بابِ دوستی جزوی طور پر فعال، افغان مہاجرین کی واپسی دوبارہ شروع

منگل 14 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی میں کمی کے بعد بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن میں بابِ دوستی کو جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ سرحد کھولنے کا مقصد صرف افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل بحال کرنا ہے جبکہ تجارتی اور عام آمدورفت تاحال معطل ہے۔

ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرحد کو 3 روز قبل کشیدگی کے سبب بند کر دیا گیا تھا البتہ گزشتہ روز سے افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ سرحد پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے مہاجرین کی رجسٹریشن، اسکریننگ اور سفری سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:  افغانستان سے اٹھنے والی دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: پاک فوج

انہوں نے کہا کہ چمن میں قائم مہاجر کیمپس میں افغان خاندانوں کے لیے عارضی شیلٹرز، خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ان کی واپسی کا عمل منظم اور محفوظ طریقے سے مکمل ہو سکے۔

ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ بابِ دوستی پر تجارتی سرگرمیاں، امیگریشن اور پیدل آمدورفت تا حکمِ ثانی معطل رہیں گی، تاہم انتظامیہ کی کوشش ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی تجارت کو بھی بحال کر دیا جائے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افغان مہاجرین براستہ چمن افغانستان واپس بھیجے جا چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت کبھی آپ کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا، حافظ نعیم الرحمان کا افغانستان کو مشورہ

یاد رہے کہ بابِ دوستی کو گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد بند کر دیا گیا تھا، جس کے باعث دو طرفہ تجارت، امیگریشن اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر رک گئی تھی۔

دوسری جانب مقامی تاجروں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ چمن شہر میں اندرونی کاروبار جزوی طور پر معمول پر آچکا ہے، تاہم سرحدی بندش کے باعث ہزاروں مزدور اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد بدستور متاثر ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟