معروف شاعر، نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے حالیہ دنوں طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے دورۂ بھارت اور انہیں دی جانے والی سرکاری پذیرائی پر سخت تنقید کی ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اس بات پر شرمندہ ہیں کہ دنیا کی ایک بدترین شدت پسند تنظیم کے نمائندے کو ایک سیکولر ملک میں عزت و احترام دیا گیا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ کاش تیز فہم خواتین صحافی جیسے انجنا اوم کشیپ، چترا، نویکا اور روبیکا اس طالبان رہنما کی پریس کانفرنس میں موجود ہوتیں،جو ہمارے سیکولر ملک کا سرکاری مہمان تھا، مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔
How I wish that the sharp witted women journalists like Anjana Om Kashyap , Chitra , Navika and Rubika could attend the first press conference of that woman hater Talibani who was the official guest of our secular country but Alas …
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 14, 2025
ان کی اس رائے پر ایک سوشل میڈیا صارف نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا سر! آپ ایک فنکار ہیں، آپ خود عورت کا بھیس بدل کر اس پریس کانفرنس میں کیوں نہیں چلے گئے؟
جاوید اختر نے اس پر سخت لہجے میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھائی، سچ کہوں تو مجھے تم پر افسوس ہو رہا ہے۔ تم اتنے کم فہم کیوں پیدا ہوئے؟ قدرت نے تم پر انصاف نہیں کیا۔ خیر، کم از کم تم اپنا نام بتا سکتے ہو، خود کھا سکتے ہو، کپڑے بدل سکتے ہو اور سڑک پار کر سکتے ہو۔ تمہیں اس پر شکر گزار ہونا چاہیے۔
Brother , honestly I am feeing sorry for you . Why you are born with such a low IQ . Nature has not been fair to you . Any way atleast you can tell your name , eat food on your own , change cloths and cross a road . You have to be thankful for that
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 14, 2025
واضح رہے کہ یہ بھارت میں طالبان کے کسی اعلیٰ رہنما کا 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد پہلا سرکاری دورہ تھا۔ امیر خان متقی چھ روزہ قیام پر نئی دہلی پہنچے۔ ان کے سفر کی اجازت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طالبان پابندی کمیٹی نے خصوصی استثنا دے کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’انتخاب نہ کریں تو بھی جہنم میں جائیں گے‘، جاوید اختر کے بیان پر پاکستانی اداکار پھٹ پڑے
نئی دہلی میں امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کی غیر موجودگی پر شدید تنازع بھی کھڑا ہوا تھا۔ حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے اسے ناقابلِ قبول اور خواتین کی توہین قرار دیا، جب کہ متعدد صحافتی تنظیموں نے بھی افغان وزیرِ خارجہ پر تنقید کی۔
بعد ازاں، تنازع کے بڑھنے پر امیر خان متقی نے ایک اور پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو بھی مدعو کیا اور وضاحٹ دی کہ خواتین صحافیوں کو باہر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، یہ محض تکنیکی مسئلہ تھا۔ فہرست مختصر وقت میں تیار کی گئی تھی۔














