’کے ایس ریلیف‘ کی جانب سے ’بَثراء‘ مہم کا آغاز، بیرونِ ملک دیہی چھوٹے پروڈیوسرز کنندگان کو بااختیار بنانے کا منصوبہ

جمعرات 16 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی شاہی دیوان کے مشیر اور مرکزِ شاہ سلمان برائے امداد و انسانی خدمات (KSrelief) کے سپروائزر جنرل ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے آج ریاض میں بَثراء  (بیج) نامی ایک نئی عالمی مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد مملکت سے باہر چھوٹے پیمانے پر دیہی پروڈیوسرز  کو بااختیار بنانا ہے۔
اس موقع پر نائب وزیرِ ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر منصور بن ہلال المشیطی بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ آج ہم بَثراء پہل کے آغاز کا جشن منا رہے ہیں، جو اس پختہ یقین سے جنم لیتی ہے کہ حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہے جب انسانوں کو خود اپنی زندگی سنوارنے کے قابل بنایا جائے۔ یہ پائیداری کا وعدہ ہے اور اس بات کا ثبوت کہ سب سے چھوٹا بیج بھی سب سے بڑی نعمت بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے سعودی ولی عہد نے مکہ مکرمہ میں ترقیاتی منصوبے ’شاہ سلمان دروازہ‘ کا آغاز کردیا

انہوں نے کہا کہ کے ایس ریلیف کا یقین ہے کہ سخاوت اُس وقت مکمل ہوتی ہے جب وہ بااختیار بنانے میں ڈھل جائے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ بَثراء کا مقصد تکلیف کو موقع میں بدلنا ہے تاکہ متاثرہ طبقات خود پر انحصار کرتے ہوئے آفات پر قابو پا سکیں اور اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کریں۔
یہ مہم سعودی قومی اداروں خصوصاً وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے تجربے کو بین الاقوامی، علاقائی اور مقامی شراکت داروں کی مہارت سے جوڑتی ہے، تاکہ سعودی اقدار پر مبنی دیرپا اور اثرانگیز نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

ڈاکٹر الربیعہ نے زور دیا کہ کے ایس ریلیف اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت کمیونٹی فارمنگ (اجتماعی کاشتکاری) کے منصوبے، تکنیکی معاونت اور پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرام، چھوٹے دیہی مالیاتی منصوبے، اور مقامی مصنوعات کے لیے جدید و پائیدار مارکیٹنگ کے طریقے متعارف کرائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے ایس ریلیف اپنے تمام شراکت داروں بشمول عطیہ دہندگان، نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور سماجی ذمہ داری کے علَمبرداروں  کو اس عالمی پہل کا حصہ بننے کی دعوت دیتا ہے۔

انجینئر منصور المشیطی نے کے ایس ریلیف کو ’ ایک عالمی انسانی ورثہ اور سعودی عرب کی منفرد شناخت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکز کے ساتھ شراکت کا مقصد امداد کو ترقی اور سخاوت کو بااختیار بنانے سے جوڑنا ہے تاکہ پائیدار ترقی اور خوشحالی حاصل کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پائیدار ترقی اور انسانی خدمت کا عالمی نمونہ بن چکا ہے، جس کا تجربہ دنیا کے لیے ایک بین الاقوامی حوالہ بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کا روشن سفر، 10 سالہ حکمرانی کا سنگ میل

ان کے مطابق اس کامیابی کی بنیاد قیادت کے تعاون، قومی صلاحیتوں پر اعتماد، اور سرکاری، نجی و غیر منافع بخش شعبوں کے مابین ہم آہنگی ہے۔

تقریب کے اختتام پر بَثراء مہم پر ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی، جس میں دنیا کے بحران زدہ علاقوں میں کسانوں، مویشی پالنے والوں، شہد کی مکھیوں کے پالنے والوں اور ماہی گیروں کے لیے اس مہم کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

فلم میں دکھایا گیا کہ یہ منصوبہ بیج، خام مال، تربیت اور مارکیٹنگ کی سہولتیں فراہم کر کے ان طبقات کو خود کفیل بنانے اور مقامی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موجودہ نظام کہیں نہیں جا رہا، بطور وزیراعظم شہباز شریف کا ملک میں کوئی نعم البدل نہیں، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

صدر مملکت آصف زرداری سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات

وزیر خارجہ اسحاق ڈار لندن پہنچ گئے، برطانوی وزیر خارجہ سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں متوقع

جاپانی کورٹس میں پاکستانی شاہینوں کا راج، 37 ویں جونیئر اوپن سکواش میں 2 گولڈ میڈلز پاکستان کے نام

کھیلوں کا سب سے بڑا میلہ پاکستان میں، 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان

ویڈیو

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟