پولینڈ میں بھاری کدو کا مقابلہ،’کلیمنٹیانا‘ نے سب کو پچھاڑ دیا

بدھ 22 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں سب سے وزنی کدو کے سالانہ مقابلے ہیویئسٹ پمپکن کانٹیسٹ کا انعقاد ہوا، جس میں 546 کلوگرام وزنی کدو نے سب کو پیچھے چھوڑ کر نہ صرف پہلی پوزیشن حاصل کی بلکہ ملک کا نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ریاست آئیووا کے کسان نے سب سے بڑا بینگن اُگانے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

یہ ریکارڈ شکن دیو ہیکل کدو، جس کا نام کلیمنٹیانا رکھا گیا ہے، کسان پرزیمیسلاف گروچالا نے تیار کیا۔ اس کامیابی پر انہیں 4 ہزار 500 پولش زلوٹی یعنی تقریباً ایک ہزار 235 امریکی ڈالرز کا انعام دیا گیا۔

کسان گروچالا کے مطابق اتنا بڑا کدو اگانے کے لیے معیاری بیج، زرخیز مٹی اور کچھ خوش قسمتی کا ہونا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلین شخص کا ’کدو کی کشتی‘ بنا کر دریائے تموت میں ایک میل کا سفر

پولینڈ یورپی یونین کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں کدو کی پیداوار نمایاں ہے۔ ملک میں تقریباً 22 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر کدو کی کاشت کی جاتی ہے، جبکہ اس کی برآمدات زیادہ تر جرمنی، سلوواکیہ اور چیک ریپبلک کو کی جاتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ، عوام کو جدید سہولتیں فراہم کریں گے، شزا فاطمہ

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں