اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ نے ایک ایسے متنازع بل کو ابتدائی منظوری دے دی جو اسرائیلی قوانین کو مقبوضہ مغربی کنارے پر نافذ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری کے مجوزہ قانون کی مذمت
یہ اقدام الحاق (Annexation) کے مترادف ہے اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ اقدام فلسطینی علاقوں کے الحاق کے مترادف اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے۔
120 رکنی کنیسٹ میں بل کے حق میں 25 جبکہ مخالفت میں 24 ووٹ ڈالے گئے۔ یہ منظوری ابتدائی ہے اور اس قانون کے مکمل نفاذ کے لیے 4 مراحل درکار ہیں۔
مزید پڑھیے: عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیل کے دورے پر ہیں اور یہ دورہ اس بیان کے ایک ماہ بعد ہو رہا ہے جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کا الحاق کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔












