ٹی ایل پی کالعدم قرار دیے جانے کے خلاف پہلے حکومت اور پھر عدالت سے رجوع کرسکتی ہے، رانا ثنااللہ

جمعہ 24 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور و سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزارت داخلہ نے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ ٹی ایل پی 30 دنوں میں حکومت سے فیصلے پر نظرِثانی کی درخواست کرسکتی ہے، درخواست مسترد ہونے کی صورت میں ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرسکتی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران راناثنااللہ سے سوال کیا گیا کہ ٹی ایل پی کو دہشتگرد تنظیم کیوں قرار دیا گیا ہے؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے ریفرنس وفاقی کابینہ کو بھیجا گیا تھا۔ کابینہ کو چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب نے بریفنگ دی۔ 2016 سے جب سے ٹی ایل پی بنی، متعدد واقعات کا حوالہ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نوٹیفکیشن کے بعد ٹی ایل پی پر پابندی مؤثر ہوجائے گی، سپریم کورٹ جانے کی ضرورت نہیں ہوگی : رانا ثنااللہ

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر 3 واقعات ایسے تھے جو ٹی ایل پی پر پابندی کی بڑی وجہ ہیں۔ ان میں فیض آباد دھرنا بھی شامل ہے جس میں ہلاکتیں ہوئیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شہید ہوئے۔ پھر 2021 میں پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران بھی اسی طرح کے واقعات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ مریدکے میں گروپ نے پڑاؤ کیا، جب یہ لاہور سے چلے تو راستے میں سرکاری عمارات، اداروں کے دفاتر اور پولیس لائنز کو نقصان پہنچایا گیا، بعض جگہوں پر پولیس کی گاڑیاں چھین لی گئیں، پولیس اہلکار یرغمال بنائے گئے اور بعض مطالبات منوانے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا فیصلہ ٹھیک ہے، ملک بھر میں ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے تحریک شروع ہوگئی

یہ تمام واقعات ٹی ایل پی کو دہشتگرد جماعت قرار دینے کے لیے کافی تھے۔ کوئی بھی تنظیم جو دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث پائی جائے تو اسے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 11 بی کے تحت کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

کسی جماعت کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اس کے اثاثے، اکاؤنٹس اور پراپرٹیز سب سیل کر دیے جاتے ہیں۔

وزارت داخلہ نے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دے دیا ہے؛ اس کے بعد 3 دنوں میں ٹی ایل پی کے ذمہ داران کو نوٹسز بھیجے جائیں گے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ ٹی ایل پی 30 دنوں کے اندر حکومت سے فیصلے پر نظرِثانی کی اپیل کرسکتی ہے؛ اگر حکومت نظرِثانی کی درخواست مسترد کرتی ہے تو ٹی ایل پی ہائیکورٹ میں رٹ دائر کرسکتی ہے اور بعد ازاں سپریم کورٹ بھی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟