بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی خواتین ونگ کا کارکنان کے ساتھ ہراسانی کے واقعات پر شدید احتجاج

بدھ 29 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جماعت اسلامی بنگلہ دیش خواتین ونگ نے ملک کے مختلف حصوں میں تنظیم کی خواتین اراکین کے خلاف ہراسانی اور حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی سخت مذمت اور شدید احتجاج کیا ہے۔

جماعت اسلامی خواتین ونگ کی مرکزی رہنما نورالنسا صدیقہ نے ایک بیان میں کہاکہ جماعتِ اسلامی خواتین ونگ کی رہنماؤں اور کارکنان کو انتخابی مہم کے دوران جگہ جگہ روکا جا رہا ہے، ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور ان کے پروگراموں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے حکومتی ’غیر جانبداری‘ پر سوالات اٹھا دیے

رپورٹس کے مطابق 28 اکتوبر کو ضلع نواکھالی کے ایک علاقے میں مقامی خواتین ونگ کی جانب سے شمالی دیوتی گاؤں میں ایک قرآن کلاس کا اہتمام کیا گیا تھا جو بیرون ملک مقیم عبد الودود کے گھر میں ہونا تھا۔

تاہم تقریب کے آغاز سے پہلے ہی کچھ لوگوں نے منتظمین سے اجازت کے معاملے پر جھگڑا شروع کر دیا۔ پھر تنازع بڑھ گیا اور چند کرسیاں توڑ دی گئیں، جس کے باعث پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔ واقعے کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

اسی روز ضلع نوگاؤں میں بھی جماعت اسلامی خواتین ونگ کو پروگرام کرنے سے روک دیا گیا۔ جبکہ ایسے دیگر واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

نورالنسا صدیقہ نے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کا غیر جمہوری رویہ ایک نئی آمریت کے ابھرنے کی نشانی ہے، جو کسی طور قابلِ قبول نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کسی بھی صحت مند معاشرتی فضا کی بنیاد ہے، لیکن شیخ حسینہ کے فاشسٹ دورِ حکومت میں بی این پی اور جماعتِ اسلامی جیسی اپوزیشن جماعتوں کو طویل عرصے سے اس حق سے محروم رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جولائی کی عوامی بغاوت کے بعد ہمیں امید تھی کہ خوف اور عدمِ تحفظ کا وہ دور ختم ہو جائےگا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیاکہ کچھ بدتمیز سیاسی عناصر ایک بار پھر اشتعال انگیز رویہ اپنا رہے ہیں، جو جمہوری ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے،

انہوں نے کہا کہ سیاسی طاقت کے ذریعے مخالفین کو دبانے کی کوشش آمریت کی یاد دلاتی ہے۔

مزید پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر عائد پابندی ختم، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

بیان میں کہا گیا کہ جماعتِ اسلامی خواتین ونگ کی کارکنان کو ہراساں کرنا اور ان کے پروگراموں میں رکاوٹ ڈالنا دراصل خواتین کے سیاسی حقوق کی نفی ہے۔

انہوں نے تمام جمہوریت پسند اور آزادی کے حامی شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ان واقعات کے خلاف آواز بلند کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

تین گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ