جماعت اسلامی بنگلہ دیش خواتین ونگ نے ملک کے مختلف حصوں میں تنظیم کی خواتین اراکین کے خلاف ہراسانی اور حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی سخت مذمت اور شدید احتجاج کیا ہے۔
جماعت اسلامی خواتین ونگ کی مرکزی رہنما نورالنسا صدیقہ نے ایک بیان میں کہاکہ جماعتِ اسلامی خواتین ونگ کی رہنماؤں اور کارکنان کو انتخابی مہم کے دوران جگہ جگہ روکا جا رہا ہے، ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور ان کے پروگراموں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے حکومتی ’غیر جانبداری‘ پر سوالات اٹھا دیے
رپورٹس کے مطابق 28 اکتوبر کو ضلع نواکھالی کے ایک علاقے میں مقامی خواتین ونگ کی جانب سے شمالی دیوتی گاؤں میں ایک قرآن کلاس کا اہتمام کیا گیا تھا جو بیرون ملک مقیم عبد الودود کے گھر میں ہونا تھا۔
تاہم تقریب کے آغاز سے پہلے ہی کچھ لوگوں نے منتظمین سے اجازت کے معاملے پر جھگڑا شروع کر دیا۔ پھر تنازع بڑھ گیا اور چند کرسیاں توڑ دی گئیں، جس کے باعث پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔ واقعے کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
اسی روز ضلع نوگاؤں میں بھی جماعت اسلامی خواتین ونگ کو پروگرام کرنے سے روک دیا گیا۔ جبکہ ایسے دیگر واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
نورالنسا صدیقہ نے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کا غیر جمہوری رویہ ایک نئی آمریت کے ابھرنے کی نشانی ہے، جو کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کسی بھی صحت مند معاشرتی فضا کی بنیاد ہے، لیکن شیخ حسینہ کے فاشسٹ دورِ حکومت میں بی این پی اور جماعتِ اسلامی جیسی اپوزیشن جماعتوں کو طویل عرصے سے اس حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جولائی کی عوامی بغاوت کے بعد ہمیں امید تھی کہ خوف اور عدمِ تحفظ کا وہ دور ختم ہو جائےگا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیاکہ کچھ بدتمیز سیاسی عناصر ایک بار پھر اشتعال انگیز رویہ اپنا رہے ہیں، جو جمہوری ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے،
انہوں نے کہا کہ سیاسی طاقت کے ذریعے مخالفین کو دبانے کی کوشش آمریت کی یاد دلاتی ہے۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر عائد پابندی ختم، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا
بیان میں کہا گیا کہ جماعتِ اسلامی خواتین ونگ کی کارکنان کو ہراساں کرنا اور ان کے پروگراموں میں رکاوٹ ڈالنا دراصل خواتین کے سیاسی حقوق کی نفی ہے۔
انہوں نے تمام جمہوریت پسند اور آزادی کے حامی شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ان واقعات کے خلاف آواز بلند کریں۔














